روس کے ایک قانون ساز کے مطابق واگنر کے جنگجوؤں سے وعدہ کیا گیا ہے کہ اگر وہ ہتھیار ڈال دیں تو انھیں معافی دے دی جائے گی لیکن انھیں اس ضمن میں تیزی سے کارروائی کرنے کی ضرورت ہے۔
روسی خبر رساں ادارے تاس کے مطابق ہفتے کے روز پارلیمان کے رکن پافیل کرشیننکوف نے کہا کہ واگنر کے جنگجو اب بھی ہتھیار ڈال سکتے ہیں اور (یوکرین میں) خصوصی فوجی آپریشن کے دوران میں اپنی کامیابیوں کے پیش نظر سزا سے بچ سکتے ہیں، لیکن انھیں یہ کام تیزی سے کرنا چاہیے۔
ویگنر کے سربراہ ایوگنی پریگوزن نے جمعہ کے روز روسی فوج پر اپنے جنگجوؤں کو تباہ کرنے کا الزام عاید کیا تھا لیکن اس الزام کی کوئی وضاحت نہیں کی اور فوجی قیادت کی ’برائی‘ کو روکنے کا عہد کیا تھا۔
روسی صدر ولادی میر پوتین نے واگنر کی مسلح بغاوت کو پیٹھ میں چھرا گھونپنے کے مترادف قرار دیا ہے اور کہا کہ اس مسلح گروپ کے سربراہ نے روس کے ساتھ دھوکا کیا ہے۔ انھوں نے اس بغاوت کو کچل دینے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔