چیچن رہنما رمضان قدیروف نے کہا ہے کہ ان کی افواج واگنر کے سربراہ ایوگنی پریگوزن کے زیر قیادت روسی ریاست کے خلاف بغاوت کو ناکام بنانے میں روسی فوج کو مدد دینے اور وقتِ ضرورت سخت طریقے استعمال کرنے کو تیار ہیں۔
قدیروف نے ہفتے کے روز ایک بیان میں پریگوزن کے رویّے کو "پیٹھ میں چاقو" کا وار قرار دیا اور روسی فوجیوں پر زور دیا کہ وہ کسی بھی "اشتعال انگیزی" کے آگے نہیں جھکیں۔
انھوں نے کہا کہ ’’چیچن یونٹ ’’کشیدگی والے علاقوں‘‘کی طرف بڑھ رہے ہیں اور وہ روس کی اکائیوں کے تحفظ اور ریاست کے دفاع کے لیے کام کریں گے‘‘۔
رمضان قدیروف روسی صدر ولادی میر پوتین کے قریبی اتحادی سمجھے جاتے ہیں اور وہ چیچنیا میں مضبوط فوجی دستوں کی کمان کرتے ہیں۔ انھیں پہلے پریگوزن کے اتحادی کے طور پر دیکھا جاتا تھا اور وہ بھی روسی فوج کی قیادت پر واگنر ملیشیا کے سربراہ کی طرح تنقید کرتے رہتے ہیں۔
تاہم، حالیہ ہفتوں میں، قدیروف سے وابستہ چیچن کمانڈروں نے روسی وزارتِ دفاع کے خلاف پریگوزن کی باقاعدگی سے اشتعال انگیزی پر تنقید شروع کر دی تھی۔