فلسطین اسرائیل تنازع

ہالینڈ میں باپ،بیٹی فلسطینی جماعت حماس کو بھاری رقم بھیجنے کے الزام میں گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ہالینڈ میں تفتیش کاروں نے باپ اور بیٹی کو یورپی یونین کی پابندیوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے فلسطینی مزاحمتی جماعت حماس کو مبیّنہ طور پر 50 لاکھ یورو (54 لاکھ ڈالر) بھیجنے کے الزام میں گرفتار کرلیا ہے۔

پبلک پراسیکیوشن سروس نے بتایا کہ 55 سالہ شخص اور اس کی 25 سالہ بیٹی کو 22 جون کو حماس کی بڑے پیمانے پر مالی اعانت کے شُبے میں گرفتار کیا گیا تھا۔ ان دونوں کا تعلق ہیگ کے نزدیک واقع قصبے لیڈشینڈیم سے ہے۔

ڈچ تفتیش کاروں نے لیڈشینڈیم میں واقع ایک گھر اور روٹرڈیم میں ایک کاروبار کی تلاشی کے دوران میں نقد رقم برآمد کی اور قریباً 750،000 یورو کا بینک بیلنس ضبط کیا ہے۔

ہالینڈ کی پبلک پراسیکیوشن سروس کو شُبہ ہے کہ باپ بیٹی نے حماس سے تعلق رکھنے والے گروہوں کو قریباً 55 لاکھ یورو کی رقم بھیجی تھی۔ان پر ایک مجرمانہ تنظیم میں شامل ہونے کا بھی شُبہ ظاہر کیا گیا ہے جس کا مقصد حماس کی مالی مدد کرنا تھا۔

استغاثہ کا کہنا ہے کہ حراست میں لیے گئے دونوں باپ بیٹی مبیّنہ طور پر ایک فاؤنڈیشن کی تشکیل میں ملوّث تھے جس نے حماس کو فنڈز بھیجنے والی ایک کالعدم تنظیم کی جگہ لی تھی۔

ان کے خلاف غیر معمولی لین دین کی اطلاعات اور یورپ میں حماس کے لیے رقوم جمع کرنے کی تقریب کے بارے میں اخبارات میں مضامین کی اشاعت کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ غزہ کی پٹی میں حکمراں فلسطینی جماعت حماس کو 11 ستمبر 2001 کو نیویارک اور واشنگٹن پر القاعدہ کے دہشت گرد حملوں کے بعد یورپی یونین کی دہشت گرد تنظیموں کی ممنوعہ فہرست میں شامل کرلیا گیا تھا۔

یورپی یونین کی ایک ماتحت عدالت نے 2014 میں حماس کو اس فہرست سے خارج کر دیا تھا لیکن بلاک کی اعلیٰ ترین عدالت نے 2017 میں اس کی بلیک لسٹ حیثیت کو بحال کر دیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں