یوکرین کو طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل بھیجنے کا فیصلہ نہیں کیا: پینٹاگان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکی محکمہ دفاع پینٹاگان نے جمعرات کو کہا ہے کہ وہ یوکرین کو طویل فاصلے تک مار کرنے والے اٹاکمز میزائلوں کی الاٹمنٹ کے بارے میں کسی فوری فیصلے سے آگاہ نہیں ہے۔

قبل ازیں امریکی اخبار’وال سٹریٹ جرنل‘ نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ واشنگٹن یوکرین کو میزائل فراہم کرنے والا ہے۔

کیئف امریکی فوجی ٹیکٹیکل میزائل سسٹم (اٹاکمز) حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ یہ میزائل اسے اگلے مورچوں سے آگے روسی افواج پر حملے کرنے میں مدد فراہم کریں گے۔

’وال اسٹریٹ جرنل‘ نے جمعرات کو امریکی اور یورپی حکام کے حوالے سے کہا کہ امریکا یوکرین کو طویل فاصلے تک مار کرنے والا میزائل سسٹم دینے پر رضامند ہونے والا ہے۔ اس اقدام سے روس کے خلاف لڑائی میں کیئف کا توازن بگڑ جائے گا۔

بعد ازاں امریکی محکمہ دفاع کے ترجمان پیٹرک رائیڈر نے روسی خبر رساں ایجنسی "ٹاس" کا حوالہ دیتے ہوئے اعلان کیا کہ یوکرین کو اٹاکمز میزائل بھیجنے کا کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔

رائیڈر نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ"ہمارے پاس اٹاکمز کے بارے میں اعلان کرنے کی کوئی معلومات نہیں اورنہ ہی امریکا نے ایسا فیصلہ کیا ہے۔ میں یقینی طور پر ان کو بھیجنے کے بارے میں کسی قریبی فیصلے سے آگاہ نہیں ہوں۔

یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب یوکرین نےاعلان کیا کہ اس کی افواج روسی افواج کے خلاف "شدید" لڑائی میں باخموت کے ارد گرد سست رفتاری سے پیش قدمی کررہی ہے۔ جب کہ روس نے اپنی طرف سے تصدیق کی ہے کہ اس نے دو دن پہلے کراماٹورک پر حملے میں دو یوکراینی جرنیلوں کو ہلاک کر دیا تھا۔

یوکرین کی زمینی افواج کے کمانڈر اولیکسینڈر سرسکی نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں کہا کہ ہم باخموت کے قریب پیش قدمی کر رہے ہیں اور ہم اسے جاری رکھے ہوئے ہیں۔

کئی ہفتوں سے یوکرین کی افواج ڈون باس کے علاقے میں لڑائی کے مرکز باخموت کے مضافات میں پیش قدمی کا دعویٰ کررہ ہے۔

اپنی طرف سے یوکرین کے نائب وزیر دفاع گانا مالیار نے جمعرات کو دعویٰ کیا کہ "ہماری افواج کا میلیتوپول، برڈیانسک (جنوب مشرق) اور باخموت کی سمت میں کارروائی جاری ہے۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں