ایران کا سویڈن میں قرآن جلانے والے عراقی شخص پر اسرائیلی موساد کا ایجنٹ ہونے کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایران نے سویڈن میں حال ہی میں قرآن مجید کی بے حرمتی کرنے اور اس کا نسخہ نذرآتش کرنے والے دریدہ دہن عراقی شخص پر اسرائیل کی خفیہ ایجنسی موساد کا ایجنٹ ہونے کا الزام عاید کیا ہے۔

سویڈن میں مقیم 37 سالہ عراقی شہری سلوان مومیکا نے 28 جون کو اسٹاک ہوم کی ایک مسجد کے باہر قرآن پاک کی بے حرمتی کی تھی اور اس کے کئی اوراق کو آگ لگا دی تھی جس پر دنیا بھر کے مسلمانوں میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔

سویڈش پولیس نے مومیکا کو آزادیِ اظہار کے تحفظ کا حوالہ دیتے ہوئے اس مذموم مظاہرے کی اجازت دی تھی۔

ایران کی سراغرسانی کی وزارت نے سوموار کو ایک بیان میں کہا ہے کہ مومیکا کا قرآن مجید کو نذرآتش کرنے کا اقدام اسرائیل کے ساتھ ایک مربوط کوشش کا نتیجہ تھا جس کا مقصد فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی فوج کی کارروائیوں سے توجہ ہٹانا تھا۔ اس میں مغربی کنارے میں واقع جنین پناہ گزین کیمپ پر اسرائیلی فوج کی حالیہ چھاپا مار کارروائی کا حوالہ دیا گیا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ صہیونیوں کا معمول ہے۔ وہ اپنی قتل و غارت گری کی مہموں کے ساتھ ساتھ مذموم کارروائیوں سے توجہ ہٹانے کے لیے اس طرح کے مجرمانہ منصوبوں پر عمل درآمد کرتے ہیں۔

گذشتہ ہفتے اسرائیل نے مغربی کنارے کے شہر جنین میں برسوں میں فلسطینیوں کے خلاف سب سے بڑا آپریشن کیا تھا جس کے نتیجے میں بارہ فلسطینی شہید ہوگئے تھے اور ایک اسرائیلی فوجی ہلاک ہوا تھا۔

ایران کے بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ مومیکا کو موساد نے 2019 میں ایجنٹ کے طور پر بھرتی کیا تھا اور تب سے وہ اسرائیلی انٹیلی جنس ایجنسی کے ساتھ کام کر رہا تھا۔

اس میں مومیکا پر الزام عاید کیا گیا ہے کہ وہ سویڈن پہنچنے سے قبل ایران کی حمایت یافتہ عراقی ملیشیاؤں کی جاسوسی کرنے اور عراق کو توڑنے کے کام میں اہم کردار ادا کر رہا تھا۔اس نے اپنی ان خدمات کے بدلے ہی میں اسرائیل سے سویڈن میں اقامت کا مطالبہ کیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں