جو بائیڈن سویڈن کی نیٹو رُکنیت کی مخالفت ترک کرنے پر صدر ایردوآن کے شکرگزار

امریکی صدر نے ترکیہ کو ایف 16 لڑاکا طیاروں کی فروخت کی حمایت کردی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

امریکی صدر جو بائیڈن نے اپنے ترک ہم منصب رجب طیب ایردوآن کا سویڈن کی نیٹو میں شمولیت کی مخالفت ترک کرنے پرشکریہ ادا کیا ہے،ان کی ہمت اور دلیرانہ قیادت کی تعریف کی ہے اوران کے اس فیصلے کو ایک بڑی سفارتی کامیابی قراردیا ہے۔

انھوں نے ولنیئس میں نیٹو کے دو روزہ سربراہ اجلاس کے موقع پر ترک صدر ایردوآن سے ملاقات کی ہے اور ان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’میں آپ کی سفارت کاری اور اس کو آگے بڑھانے کے لیے آپ کی ہمت وحوصلے پرآپ کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں اور میں آپ کی قیادت پرآپ کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں‘‘۔

واضح رہے کہ مغربی دارالحکومتوں میں صدر ایردوآن کی جانب سے سویڈن کی رکنیت کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے پر مایوسی میں اضافہ ہو رہا تھا۔سویڈن کو اتحاد میں شمولیت کی کوشش کی تکمیل کے لیے نیٹو کے ارکان کی متفقہ منظوری درکار تھی۔اس نے گذشتہ سال یوکرین پر روسی فوج کے حملے کے جواب میں فن لینڈ کے ساتھ مل کر نیٹو کی رکنیت کے لیے کوشش شروع کی تھی لیکن ترکیہ اور ہنگری اس کی مخالفت کررہے تھے۔

بائیڈن نے گذشتہ اتوارکو ایئرفورس ون پر سفر کے دوران میں صدر ایردوآن سے قریباً ایک گھنٹے تک بات چیت کی تھی تاکہ اس تعطل کو ختم کیا جا سکے اور ولنیئس سربراہ اجلاس میں کسی مکنہ شرمناک ناکامی سے بچا جا سکے لیکن ایردوآن نے پیر کی رات اچانک اپنی مخالفت ترک کر دی تھی۔

وہ گذشتہ کئی مہینوں سے سویڈن میں مقیم ترکیہ سے تعلق رکھنے والی کالعدم کرد تحریکوں کے ارکان کے خلاف کریک ڈاؤن پر زور دے رہے تھے جس کے بارے میں سویڈش حکومت کا کہنا ہے کہ اب اس نے ترکیہ کی تمام شرائط کو پورا کردیا ہے لیکن اس بارے میں قیاس آرائیاں بڑھ گئیں کہ ترکیہ نے سویڈن کو گرین سگنل دینے کے لیے اور کیا مراعات حاصل کی ہیں۔

صدر ایردوآن نے آخری لمحات میں مطالبہ کیا تھا کہ نیٹو میں سویڈن کی منظوری کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ ترکیہ یورپی یونین کے ساتھ تعطل کا شکار رکنیت کے مذاکرات کی تجدید کرنے میں کامیاب ہو جائے۔

سویڈن کے فیصلے کے تناظر میں ترکیہ کی جانب سے جدید امریکی ایف 16 لڑاکا طیاروں کی خریداری کے ایک اور دیرینہ مطالبے کو تقویت ملتی دکھائی دے رہی ہے۔

بائیڈن کے قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان نے منگل کے روز اس بات پر زور دیا کہ امریکی صدر کئی ماہ سے واضح اور دو ٹوک مؤقف اختیار کر چکے ہیں اورانھوں نے ایف 16 لڑاکا طیاروں کی ترکیہ کو منتقلی کی حمایت کی ہے۔

انھوں نے گذشتہ چند ماہ کے دوران میں اپنے عوامی اور نجی تبصروں میں اس پر کوئی شرط نہیں رکھی ہے اور وہ کانگریس کی مشاورت سے اس معاملے پر آگے بڑھنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

سلیوان نے کہا کہ ہم جنگی طیاروں کو ترکیہ منتقل کرنے کے لیے مناسب وقت پر کانگریس کے ساتھ مل کر کام کریں گے۔ لیکن وہ ’’اس بارے میں قیاس آرائی نہیں کر سکتے کہ یہ کس دن ہونے جا رہا ہے‘‘۔

ترکیہ کی یورپی یونین کی امنگوں کو سویڈش اور نیٹو کے سوال سے جوڑنے کی کوششوں کے بارے میں سلیوان نے کہا کہ بائیڈن طویل عرصے سے ترکیہ کی یورپی یونین میں شمولیت کی حمایت کرتے رہے ہیں۔تاہم ، اس میں جمہوری لچک کے مقابلے میں ضروری اصلاحات اور اقدامات پر تبادلہ خیال ہوگا جس سے یورپی یونین کی رکنیت کے لیے ہر ممکنہ درخواست گزار گزرتا ہے۔انھوں نے کہا:’’جہاں تک ہمارا تعلق ہے، ان مسائل کا آپس میں یا ہمارے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے‘‘۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں