خواجہ سرا خاتون نے مس ہالینڈ کا ٹائٹل جیت لیا، عالمی مقابلےمیں شمولیت کے لے پرعزم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

رِکی ویلری کولی نے پہلی ٹرانس جینڈر خاتون کے طور پر مقابلہ حسن جیت کر تاریخ رقم کرتے ہوئے مس ہالینڈ کا تاج اپنے سر پر سجا لیا۔ انہوں نے اگلے مس یونیورس مقابلے میں اپنی نشست حاصل کی ہے اور وہ اس سال کے آخر میں ایل سلواڈور میں منعقد ہونے والے بین الاقوامی مقابلہ حسن میں بھی شرکت کریں گی۔

برطانوی اخبار "میل آن لائن" کے مطابق 22 سالہ ماڈل کی اتوار کے روز تاج پوشی کی گئی۔ سرخ لباس زیب تن کیے کوہلی اپنی پیش رو یونا موڈی اور گذشتہ سال کی مس یونیورس امریکا ربونی گیبریل سے تاج وصول کرتے ہوئے رو پڑیں۔

مس یونیورس 2023 کا انتخاب اگلے دسمبر میں ایل سلواڈور میں ہوگا جس میں 24 ممالک کی امیدوار حصہ لیں گی۔

سنہ 2018ء میں اسپین کی انجیلا پونس کے بعد یہ دوسرا موقع ہو گا جب کوئی ٹرانس جینڈر خاتون مس یونیورس کے مقابلے میں حصہ لے گی۔

یہ بات قابل غور ہے کہ ٹرانس جینڈر مقابلہ حسن 2012 سے مقابلہ حسن میں حصہ لینے کے اہل ہیں۔ اس کے علاوہ تھائی کاروباری خاتون اور ٹرانس جینڈر این جاکرا گوٹاٹیپ جنہوں نے مس یونیورس آرگنائزیشن حاصل کی۔ یہ آرگنائزیشن اس سے پہلے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ملکیت تھی۔ اس کا مقصد خواتین کو بااختیار بنانا ہے۔

اسی سلسلے میں ڈینیلا آررویو گونزالیز جو کہ ٹرانسجینڈر بھی ہیں کو اس سال کے شروع میں مس پورٹو ریکو مقابلے میں حصہ لینے کے لیے منتخب کیا گیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں