روس اور یوکرین

یوکرین کی نیٹو میں رُکنیت روس کی سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتی ہے: صدر پوتین

نیٹو کی رُکنیت سے خود یوکرین کی سلامتی میں اضافہ نہیں ہوگا،بلکہ یہ اقدام دنیا کو خطرے میں ڈال دے گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

روسی صدر ولادی میر پوتین نے کہا ہے کہ نیٹو میں یوکرین کی رکنیت روس کی سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتی ہے اور ماسکو اس کو روکنے ہی کے لیے یوکرین پر حملہ کیا تھا۔

انھوں نے کہا کہ:’’درحقیقت، خصوصی فوجی آپریشن [یوکرین پر روسی حملہ] کی ایک وجہ یوکرین کے نیٹو میں شامل ہونے کا خطرہ ہے‘‘۔

روسی صدر نے دعویٰ کیا کہ ’’نیٹو کی رکنیت سے خود یوکرین کی سلامتی میں اضافہ نہیں ہوگا، بلکہ یہ اقدام دنیا کو بہت زیادہ خطرے میں ڈال دے گا۔مجھے یقین ہے کہ نیٹو میں شمولیت خود یوکرین کی سلامتی میں اضافہ نہیں کرے گی، اور عام طور پر دنیا کو زیادہ غیر محفوظ بنا دے گی اور بین الاقوامی میدان میں اضافی کشیدگی کا باعث بنے گی‘‘۔

صدر پوتین کا یہ بیان ولنیئس میں نیٹو سربراہ اجلاس کے بعد سامنے آیا ہے جس میں یوکرین کو نیٹو میں شامل کرنے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا تھا اوراس کو یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ روس کے حملے سے شروع ہونے والی جنگ ختم ہونے کے بعد اس کی رکنیت کو باضابطہ شکل دی جائے گی۔

مشرقی یورپ میں نیٹو کے بہت سے ارکان نے یوکرین کے مؤقف کی بھرپور حمایت کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ روس کو ایک اور جنگ شروع کرنے سے روکنے کے لیے یوکرین کو اتحاد کے اجتماعی سلامتی فریم ورک میں شامل کرنا سب سے مؤثر حکمت عملی ہے۔

نیٹو کے سیکرٹری جنرل جینز اسٹولٹن برگ نے بدھ کو کہا کہ ’’یوکرین بالآخر نیٹو کا رکن بن جائے گا،ہم نے اتفاق کیا ہے کہ یوکرین کا مستقبل نیٹو میں ہے۔ ہم اس بات کا اعادہ کرتے ہیں کہ یوکرین اس تنظیم کا رکن بنے گا۔ ہم نے یوکرین کو رکنیت کی طرف بڑھنے میں مدد دینے کے لیے ٹھوس ٹولز، سیاسی آلات، عملی اقدامات سےاتفاق کیا ہے‘‘۔

تاہم ، روس کا کہنا ہے کہ یوکرین کا نیٹو میں شامل ہونے کا امکان اس کی قومی سلامتی اور علاقائی اثر و رسوخ کے لیے ایک اہم خطرہ ہے۔ اس نقطہ نظر کے پیچھے کارفرما بنیادی خدشات اور وجوہات کا سراغ تاریخی، جغرافیائی اور تزویراتی عوامل سے لگایا جاسکتا ہے۔ سب سے پہلے، یوکرین روس کی مغربی سرحد پر ایک اہم جغرافیائی تزویراتی پوزیشن رکھتا ہے، جو روس اور نیٹو کے رکن ممالک کے درمیان بفر زون ہے۔یوکرین کا نیٹو میں ممکنہ انضمام مؤثر طریقے سے اتحاد کے فوجی انفراسٹرکچر کو روس کے قریب لائے گا ، اس طرح اس کی دفاعی گہرائی کم ہوجائے گی اور اس کے مبیّنہ محاصرے میں اضافہ ہوگا۔

مزید برآں، نیٹو کے ساتھ یوکرین کی صف بندی روس کی علاقائی بالادستی کی امنگوں کو چیلنج کرے گی اور اپنے ہمسایہ ممالک پر اثر و رسوخ بڑھانے کی اس کی صلاحیت کو محدود کرے گی۔ ماسکو کو خدشہ ہے کہ یوکرین میں نیٹو کی موجودگی روس کے تزویراتی مفادات کو نقصان پہنچائے گی، اس کے اثر و رسوخ کو ختم کر دے گی، اور ممکنہ طور پر اس کی سرحدوں کے قریب دشمن کے فوجی اڈے قائم کرے گی۔

یادرہے کہ یوکرین میں 2014 میں میدان انقلاب کے بعد روس کے کریمیا کوضم کرنے کا مقصد سیواستوپول میں اپنے تزویراتی بحری اڈے کے نقصان کو روکنا اور بنیادی طور پر روس نواز علاقے پر کنٹرول برقرار رکھنا تھا۔ مجموعی طور پر ، یوکرین میں نیٹو کی توسیع کے بارے میں روس کا تصور جغرافیائی ،تزویراتی اور تاریخی عوامل کا ایک پیچیدہ جال ہے جو اس کے خدشات کو بڑھاتا ہے اور وہ اس طرح کے اقدام کو اپنے لیے براہ راست خطرہ سمجھتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں