پولیس نے بی بی سی اینکر کیس میں کسی بھی مجرمانہ عمل کو مسترد کر دیا

ایڈورڈز ڈپریشن کا شکار، ہسپتال میں داخل کر دیا گیا، طبیعت بہتر ہونے پر جواب دیں گے: اہلیہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

ہیو ایڈورڈز کی اہلیہ نے انکشاف کیا کہ ان کے شوہر بی بی سی کے ایک ممتاز براڈکاسٹر ہیں جنہیں کئی دنوں سے جنسی نوعیت کے الزامات کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان واقعات کے نتیجے میں ڈپریشن کے مسائل میں مبتلا ہونے کی وجہ سے انہیں ہسپتال داخل کرایا گیا۔

دوسری طرف پولیس نے اعلان کیا ہے کہ انہیں بی بی سی اینکر ہیو ایڈورڈز کے خلاف الزامات کے سلسلے میں مجرمانہ جرم کا کوئی ثبوت نہیں ملا ہے۔ واضح رہے بی بی سی اینکر کا سکینڈل چھ روز سے برطانوی اخبارات کی سرخیوں میں نمایاں ہے۔

ہیو ایڈورڈز کی عمر 61 سال ہے، وہ 20 برس سے بی بی سی میں خبریں پیش کر رہے ہیں۔ ان کی خبریں رات دس بجے نشر ہوتی ہے۔ وہ برطانیہ کے مشہور براڈ کاسٹرز میں سے ایک ہیں اور بی بی سی میں سب سے زیادہ معاوضہ لینے والے اینکر ہیں۔ وہ ہر سال 400 ہزار پاؤنڈ سٹرلنگ کماتے ہیں جو 522 ہزار ڈالر کے مساوی ہیں۔

1984 میں ایڈورڈز نے بی بی سی میں اپنے کام کا آغاز کیا تھا۔ وہ تیزی سے ترقی کی سیڑھی پر چڑھتے گئے۔ یہ ایڈورڈز ہی تھے جنہوں نے 8 ستمبر 2022 کو ملکہ الزبتھ دوم کی موت کا اعلان کیا تھا۔ اس موقع پر وہ کئی گھنٹے نشریات چلاتے رہے۔ اسی طرح 3 مئی 2023 کو برطانوی شاہ چارلس سوم کی تاج پوشی پر بھی انہوں نے طویل نشریات کو سنبھالا۔

سکینڈل سامنے آنے کے بعد ان کی شناخت کو سوشل میڈیا نیٹ ورکس پر بڑے پیمانے پر نمایاں کیا گیا۔ بی بی سی کے لاکھوں ناظرین نے رات 10 بجے کی خبروں میں ان کی غیر موجودگی کو محسوس کیا۔

ان کی اہلیہ وکی فلینڈ نے برطانوی خبر رساں ایجنسی بی ای کو ایک بیان میں لکھا کہ میں یہ بیان اپنے شوہر ایڈورڈز کی جانب سے اپنے خاندان کو درپیش ہونے والے پانچ انتہائی مشکل دنوں کے بعد دے رہی ہوں۔ انہوں نے کہا میرے شوہر سنگین ڈپریشن کا شکار ہیں۔ حالیہ دنوں کے واقعات کے نتیجے میں ایک نیا بحران پیدا ہوگیا جس کی وجہ سے انہیں ہسپتال منتقل کرنا پڑا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ جیسے ہی وہ کچھ سنبھلتے ہیں تو وہ شائع ہونے والے مضامین کا جواب دینے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ایڈورڈز کو 6 جولائی کو الزامات سے آگاہ کیا گیا تھا اور اتوار کو کام سے الگ کردیا گیا تھا۔

واضح رہے ’’دی سن‘‘ اخبار نے بی بی سی کے اینکر ایڈورڈز کو پر الزام لگایا تھا کہ انہوں نے ایک نابالغ بچے کو تین سال کے عرصہ میں فحش تصاویر لینے کے لیے 35 ہزار پاؤنڈ ادا کیے تھے۔ اخبار نے واضح نہیں کیا کہ وہ بچا لڑکا تھا یا لڑکی۔

پولیس نے اس نابالغ سے ملاقات بھی کی جس نے اپنی والدہ کے الزامات کو بکواس قرار دے دیا ہے۔ پولیس نے قرار دیا کہ مجرمانہ فعل انجام نہیں دیا گیا۔ بی بی سی نے ایک بیان میں کہا کہ ادارہ اس بات پر شکر گزار ہے کہ پولیس جلدی کسی نتیجے پر پہنچ گئی۔

بی بی سی کے ڈائریکٹر جنرل ٹم ڈیوی نے منگل کو دی سن اخبار میں ابتدائی الزامات کو انتہائی نقصان دہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ریڈ الرٹ کی صورت ہے۔ انہوں نے اس حوالے سے اندرونی طریقہ کار پر نظرثانی کا اعلان کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں