روس کا یوکرین میں جنگ کی حامی دو صحافیوں کے قتل کی مبیّنہ سازش ناکام بنانے کا دعویٰ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

روس کی سکیورٹی ایجنسی ایف ایس بی نے ہفتے کے روز یوکرین میں جنگ کی حامی دو معروف روسی خاتون صحافیوں کو قتل کرنے کی مبیّنہ سازش کو ناکام بنانے کا دعویٰ دیا ہے۔

ایف ایس بی کا کہنا ہے کہ اس نے جمعہ کو متعدد افراد کو حراست میں لیا تھا۔انھوں نے مارگریٹا سیمونیان اور کیسنیا سوبچک کے گھروں اور کام کی جگہوں کے قریب جاسوسی کی تھی۔

یوکرین کی جانب سے فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔اس نے ماضی میں روس کے اندر جنگ کی حامی شخصیات کے قتل میں ملوث ہونے سے انکار کیا ہے۔

روس کی خبررساں ایجنسی انٹرفیکس نے ایف ایس بی کے حوالے سے بتایا ہے کہ حراست میں لیے گئے افراد نے یوکرین کی جانب سے دونوں خواتین پر حملوں کی تیاری کا اعتراف کیا تھا اور انھیں ان میں سے ہر ایک کے قتل پر 15 لاکھ روبل (16 ہزار 620 ڈالر) کا انعام دینے کا وعدہ کیا گیا تھا۔

سرکاری میڈیا ادارے آر ٹی کی سربراہ اور یوکرین میں روس کی جنگ کی حامی سیمونیان نے ٹیلی گرام پر مبیّنہ سازش کے بارے میں ایک پیغام پوسٹ کیا، جس میں سکیورٹی سروسز پر زور دیا گیا کہ ’’کام کرتے رہیں، بھائیو!‘‘

کیسنیاسوبچک معروف صحافیہ اور ٹی وی میزبان ہیں۔انھوں نے 2018 میں روس میں منعقدہ صدارتی انتخاب میں بہ طور صدارتی امیدوار حصہ لیا تھا۔

گذشتہ ایک سال کے دوران میں روس کے اندر بم حملوں میں جنگ کے حامی دو اہم روسی صحافی دریا دوگینا اور فوجی بلاگر ولادلن تاتارسکی ہلاک ہو چکے ہیں۔ روس نے ان ہلاکتوں کا الزام یوکرین پر عاید کیا تھا جبکہ کیف نے اس کی تردید کی تھی اور انھیں روس کی اندرونی لڑائی کے ثبوت کے طور پر پیش کیا تھا۔

مئی میں ایک معروف روسی قوم پرست مصنف زخار پریلیپن ایک کار بم دھماکے میں زخمی ہو گئے تھے۔اس حملے میں ان کا ڈرائیور ہلاک ہو گیا تھا۔تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ اس واقعے میں ملوث ہونے کے الزام میں ایک مشتبہ شخص کو حراست میں لیا گیا تھا اور اس نے یوکرین کی جانب سے کام کرنے کا اعتراف کیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں