ترک صدر طیب ایردوآن سعودی عرب کے سرکاری دورے پر جدہ پہنچ گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ترک صدر رجب طیب ایردوآن مئی میں دوبارہ منتخب ہونے کے بعد اپنے پہلے غیر ملکی سرکاری دورے پر پیر کو سعودی عرب کے ساحلی شہر جدہ پہنچ گئے ہیں۔وہ قطر اور متحدہ عرب امارات بھی جائیں گے۔

سعودی عرب کے الاخباریہ ٹیلی ویژن نے بحیرہ احمر کے کنارے واقع شہر جدہ میں سعودی ترک بزنس فورم کے مقام پر پہنچنے پر متعدد سعودی حکام کو صدر ایردوآن کا استقبال کرتے ہوئے دکھایا ہے۔

رجب طیب ایردوآن اپنے دورے میں شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات کریں گے اور دونوں ممالک کے درمیان باہمی دلچسپی کے مشترکہ امور پر تبادلہ خیال کریں گے۔

ترک رہ نما سرمایہ کاری اور مالیات کے لیے 'بہت زیادہ امیدوں' کے ساتھ خلیج کا یہ دورہ کر رہے ہیں کیونکہ ترکیہ بجٹ کے تناؤ، دائمی افراطِ زر اور اپنی کرنسی لیرا کی مسلسل گراوٹ پر قابو پانا چاہتا ہے۔

سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے سرمایہ کاری اور فنڈنگ نے 2021 کے بعد سے ترکیہ کی معیشت اور بھاری کرنسی پر دباؤ کم کرنے میں مدد کی ہے۔طیب ایردوآن نے دورے پر روانگی سے قبل استنبول کے ہوائی اڈے پر ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’ہمیں دونوں ممالک سے بہت امیدیں وابستہ ہیں۔اس دورے کے دو اہم موضوعات ہیں: سرمایہ کاری، اور ایک مالیاتی جہت‘‘۔

انھوں نے کہا:’’ترکیہ کے پاس تینوں ممالک میں دفاعی صنعت، بنیادی ڈھانچے اور سپر اسٹرکچرمیں سرمایہ کاری کے سنجیدہ مواقع ہوں گے‘‘۔انھوں نے مزید کہا کہ اس کے علاوہ ان ممالک کو ترکیہ سے کچھ اثاثے خریدنے کا موقع ملے گا۔

الخباریہ نے ترک صدر کے دورے کے موقع پرایک اور براہ راست فوٹیج نشر کی ہے جس میں سعودی عرب کے سرمایہ کاری کے وزیر خالد الفالح کو جدہ میں سعودی ترک بزنس فورم میں دونوں اطراف کے درجنوں تاجروں سے خطاب کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

صدر ایردوآن کے تین روزہ دورے میں سعودی عرب، قطر اور متحدہ عرب امارات میں بزنس فورمز کا اہتمام کیا گیا ہے۔وہ منگل کو دوحہ میں قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی سے ملاقات کریں گے اور بدھ کو ابوظبی میں متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید آل نہیان سے تبادلہ خیال کریں گے۔

واضح رہے کہ قطر اور متحدہ عرب امارات نے حال ہی میں ترکیہ کو کرنسی کے تبادلے کے معاہدوں میں قریباً 20 ارب ڈالر مہیا کیے ہیں جبکہ سعودی عرب نے مارچ میں ترکیہ کے مرکزی بینک میں 5 ارب ڈالر جمع کرائے تھے۔

گذشتہ ماہ ایردوآن کے دوبارہ انتخاب جیتنے کے چند روز بعد متحدہ عرب امارات اور ترکیہ نے اگلے پانچ سال میں ممکنہ طور پر 40 ارب ڈالر کے تجارتی معاہدے پر دست خط کیے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں