جاپان کو بحفاظت تیل کی سپلائی جاری رکھے ہوئے ہیں: سعودی وزیر توانائی

سعودی عرب اور جاپان تیل کی عالمی منڈیوں کے استحکام اور توازن کی حمایت پر متفق ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سعودی وزیر توانائی شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان بن عبدالعزیز نے کہا ہے کہ توانائی کے شعبہ میں مملکت سعودی عرب اور سلطنت جاپان کے درمیان تعلقات نصف صدی سے زیادہ عرصہ پر محیط ہیں۔ ان تعلقات کی خصوصیت یکجہتی اور باہمی اعتماد ہے۔ دونوں دوست ملک اپنے مشترکہ مفادات کے حصول کے لیے اسے ترقی دینے اور متنوع بنانے کے خواہاں ہیں۔ دونوں ملک دنیا بھر میں توانائی کے شعبے اور معیشت کی ترقی اور استحکام کی حمایت کرتے ہیں۔

سعودی پریس ایجنسی کے مطابق وزیر توانائی شہزادہ عبدالعزیز کہا کہ جاپان کے وزیر اعظم فومیو کشیدا کا دورہ یہ واضح کر رہا ہے کہ سعودی عرب اور جاپان توانائی کے شعبے میں سٹریٹجک شراکت دار ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ شراکت داری مملکت کے ’’ویژن 2030 ‘‘ کے اہداف اور پروگراموں کے فریم ورک کے اندر بہت مضبوط ہو رہی ہے۔ توانائی کے مختلف مسائل پر دونوں ملکوں کے درمیان اتفاق رائے ہے۔

ان مسائل میں استحکام کی حمایت کی اہمیت پر مبنی معاہدہ، تیل کی عالمی منڈیوں کا توازن، پیداوار اور استعمال کرنے والے ملکوں کے درمیان تعاون کی حوصلہ افزائی اور عالمی منڈیوں میں توانائی کے تمام ذرائع کے لیے سپلائی کی حفاظت کو یقینی بنانا شامل ہے۔

سعودی وزیر نے زور دیا کہ مملکت اور جاپان موسمیاتی تبدیلی کے فریم ورک کنونشن اور پیرس معاہدے کے اصولوں کی پاسداری کو اہمیت دیتے ہیں اور توانائی کے ذرائع کے بجائے اخراج پر توجہ مرکوز کر رہے ہیں۔ دونوں ملکوں کی کاربن اکانومی اپروچ اور کاربن ری سائیکلنگ تکنیک کے موثر استعمال پر توجہ ہے۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ مملکت توانائی کے شعبہ میں جاپان کے ساتھ سٹریٹجک تعلقات کے عزم کی بنیاد پر جاپان کو تیل کی سپلائی کی حفاظت کو یقینی بنانا جاری ہے۔ اوکیناوا جزیرے پر سٹریٹیجک سٹوریج کی سہولت میں سعودی خام تیل کو ذخیرہ کرنے کے ساتھ ساتھ سعودی عرب جاپان کو خام تیل کی سپلائی کے لیے سب سے قابل اعتماد پارٹنر بن گیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ 2021 میں سعودی عرب جاپان کو تیل فراہم کرنے والا سب سے بڑا ملک بن گیا۔ سعودی تیل جاپان کی ضروریات کا تقریباً 40 فیصد فراہم کرتا ہے۔

سعودی وزیر توانائی نے بتایا کہ سعودی عرب میں پیدا ہونے والے کلین امونیا کی پہلی کھیپ آگئی ہے۔ اس نے ایک غیر جانبدار اتھارٹی سے منظور شدہ سرٹیفکیٹ حاصل کرلیا ہے۔ اس کلین امونیا کو جاپان کو بجلی پیدا کرنے کے لیے ایندھن کے طور پر استعمال کیا جائے گا۔ یہ پیش رفت صاف توانائی کی ترقی میں ایک سنگ میل ثابت ہوگی۔ یہ کامیابی مملکت اور جاپان میں متعدد اداروں کے درمیان موثر تعاون کا نتیجہ ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں