جنوبی افریقا کے صدر سیرل رامفوسا نے منگل کے روز جاری کردہ عدالتی دستاویزمیں قراردیا ہے کہ صدر ولادی میر پوتین کی گرفتاری روس کے خلاف اعلان جنگ کے مترادف ہے۔
روسی صدر کو آیندہ ماہ جوہانسبرگ میں ہونے والے برکس سربراہ اجلاس میں مدعو کیا گیا ہے لیکن ان کے خلاف ہیگ میں قائم بین الاقوامی فوجداری عدالت نے گرفتاری کے وارنٹ جاری کررکھے ہیں۔ آئی سی سی کے رکن کی حیثیت سے جنوبی افریقا سے توقع کی جاتی ہے کہ اگر روسی صدر اجلاس میں شرکت کرتے ہیں تو وہ اس وارنٹ پر عمل درآمد کرے اور انھیں گرفتار کرے۔
جنوبی افریقا کا سفارتی مخمصہ عدالت میں سامنے آ رہا ہے، جہاں حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت ڈیموکریٹک الائنس (ڈی اے) حکومت کا ہاتھ دبانے کی کوشش کر رہی ہے اور اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کر رہی ہے کہ اگر کریملن کے رہنما ملک میں قدم رکھتے ہیں تو انھیں پکڑ کر آئی سی سی کے حوالے کر دیا جائے۔
لیکن ایک جوابی حلف نامہ میں رامفوسا نے ڈی اے کی درخواست کو "غیر ذمہ دارانہ" قرار دیا اور کہا کہ قومی سلامتی داؤ پر لگی ہوئی ہے۔انھوں نے کہا کہ روس نے واضح کر دیا ہے کہ اس کے صدر کی گرفتاری اعلان جنگ ہو گی۔
انھوں نے کہا کہ روس کے ساتھ جنگ میں ملوث ہونے کا خطرہ مول لینا ہمارے آئین سے متصادم ہوگا اور یہ ملک کی حفاظت کے ان کے فرض کے خلاف ہوگا۔
انھوں نے کہا کہ جنوبی افریقا آئی سی سی قوانین کے تحت استثنا کا مطالبہ کر رہا ہے جس کی بنیاد اس حقیقت پر ہے کہ گرفتاری سے "ریاست کی سلامتی، امن اور نظم و نسق" کو خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔
جنوبی افریقا برکس گروپ کا موجودہ چیئرمین ہے، جس میں برازیل، روس، بھارت اور چین بھی شامل ہیں۔ یہ گروپ خود کو مغربی اقتصادی غلبے کے مقابلے میں ایک جوابی توازن کے طور پر دیکھتا ہے۔
آئی سی سی کی جانب سے صدرولادی میرپوتین پر الزام عاید کیا گیا ہے کہ روس نے یوکرین کے بچّوں کو غیر قانونی طور پر ملک بدر کیا ہے۔جنوبی افریقا کے نائب صدر پال ماسٹیل نے مقامی میڈیا کو دیے گئے حالیہ انٹرویوز میں کہا ہے کہ حکومت صدرپوتین کو یہاں نہ آنے پر قائل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
جون میں دست خط شدہ اور ابتدائی طور پر 'خفیہ' کے طور پر نشان زد صدر رامفوسا کا حلف نامہ آج شائع کیا گیا ہے اور عدالت نے اس کیس سے متعلق کاغذات کو عام کرنے کا حکم دیا تھا۔