سعودی پرو لیگ کی فٹ بال کے کھیل کے فروغ کے لیے انقلابی حکمتِ عملی کا انکشاف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
8 منٹس read

سعودی عرب نے گذشتہ ایک سال کے دوران میں کھیلوں کی وجہ سے مسلسل بین الاقوامی سرخیوں میں جگہ بنائی ہے اور کھیلوں کے عالمی شائقین کو حیران کردیا ہے کیونکہ اس نے اپنے فٹ بال منظرنامے کو تبدیل کرنے کے لیے ایک نئی حکمتِ عملی پر عمل درآمد کیا ہے۔

فٹ بال لیجنڈز کرسٹیانو رونالڈو اور کریم بینزیما کی خدمات کے حصول سے پبلک انویسٹمنٹ فنڈ کی جانب سے چار بڑے سعودی کلبوں کے حصول کا اعلان کرنے تک، مملکت تیزی سے دنیا کی ٹاپ 10 فٹ بال لیگز میں سے ایک بننے کے اپنے اہداف کی طرف بڑھ رہی ہے۔

سعودی پرو لیگ کے عبوری چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) سعدالعزیز نے کلبوں کی مسابقت بڑھانے، کھیلوں کے شعبے میں طویل مدتی ترقی پیدا کرنے اور فٹ بال کی دنیا میں عالمی کھلاڑی بننے کے سعودی عرب کے منصوبے کی تفصیل کا انکشاف کیا ہے۔

سعودی پرو لیگ کے پاس ملک کے فٹ بال کے عزائم کو پورا کرنے اور اس کی زیادہ سے زیادہ آبادی کو کھیلوں میں شامل ہونے کی ترغیب دینے کا ایک ناقابل یقین موقع ہے۔ عبوری سی ای او نے کہا کہ سعودی پرو لیگ (ایس پی ایل) کلبوں کی حمایت اور ترقی میں مرکزی اور اعلیٰ کردار ادا کرے گی۔

نوجوان سعودی ٹیلنٹ کی حمایت

ایس پی ایل کی حکمتِ عملی کا پہلا حصہ نوجوانوں کی ترقی کے لیے اپنے عزم کو بڑھانا اور سعودی ٹیلنٹ کی حمایت کرنا ہے۔

انھوں نے کہا:’’اگلے سیزن سے، ایس پی ایل نوجوان اور زیادہ مسابقتی بن جائے گا، سعودی عرب فٹ بال فیڈریشن کئی سال سے نچلی سطح پر کیے جانے والے گراؤنڈ ورک کا فائدہ اٹھائے گی‘‘۔

سعودی پریس ایجنسی (ایس پی اے) نے اس سے قبل رپورٹ کیا تھا کہ سعودی عرب کی 80 فی صد سے زیادہ آبادی یا تو فٹ بال کھیلتی ہے، اس میں شرکت کرتی ہے یا ان کھیلوں کو دیکھتی ہے۔

ایس پی اے کے مطابق کھیلوں میں مردوں اور خواتین دونوں کی بڑے پیمانے پر شرکت 2015 میں 13 فی صد سے بڑھ کر 2022 میں تقریبا 50 فی صد ہوگئی۔انھوں نے کہا:’’لیگ کے معیار اور مسابقت پر زور دینے اور اسے بہتر بنانے کے لیے ہم جو کچھ کر رہے ہیں،وہ لیگ کو فعال بنانا ہے‘‘۔

انھوں نے کہا کہ اس میں عالمی معیار کے کھلاڑیوں اور ٹیلنٹ کو لانے یا ان کھلاڑیوں پر بھاری رقم خرچ کرنے سے کہیں زیادہ ہے۔ایس پی ایل کی نئی حکمت عملی کے مطابق کلبوں کے لیے عمر کی حد 18 سال سے کم کر کے 16 سال کر دی گئی ہے۔ 2025-2026 سیزن کے لیے اسکواڈ کے 35 میں سے 10 ارکان کی عمر 21 سال سے کم ہونی چاہیے۔ کلبوں کو مملکت کے اندر اکیڈمیوں سے تعلق رکھنے والے متعدد مقامی کھلاڑیوں کی بھی ضرورت ہوگی۔

انھوں نے کہا کہ یہ مسابقت سعودی نوجوانوں کو کلبوں میں شمولیت ثابت کرنے اور کریم بینزیما اور کرسٹیانو رونالڈو جیسے کھلاڑیوں کے ساتھ رہنے پر مجبور کرے گی۔

سعودی شائقین فٹ بال میچ دیکھ رہے ہیں۔
سعودی شائقین فٹ بال میچ دیکھ رہے ہیں۔

پیس پروگرام کی تیاری

ایس پی ایل نے فٹ بال کے نئے ڈائریکٹر مائیکل ایمنالو کی سربراہی میں پلیئر ایکوزیشن سنٹر آف ایکسیلینس (پیس) پروگرام کا بھی آغاز کیا تاکہ ابھرتے ہوئے نوجوان سعودی ٹیلنٹ کو بین الاقوامی فٹ بالرز اور رول ماڈلز سے جوڑا جاسکے۔

اس وقت ایس پی ایل میں 40 سے زیادہ مختلف ممالک کے کھلاڑی موجود ہیں اور صرف گذشتہ سال اس میں قریباً 150 فی صد کا اضافہ دیکھا گیا ہے۔

ایمنالو چیلسی ایف سی اور اے ایس موناکو ایف سی میں فٹ بال کے سابق ڈائریکٹر ہیں اور انھوں نے ان کلبوں کو ترقی دینے میں اہم کردار اداکیا ہے۔کلب غیر ملکی کھلاڑیوں کے حصول کے لیے مرحلہ وار عمل کے ذریعے فٹ بال کے ڈائریکٹر کے ساتھ فعال طور پر کام کریں گے جس میں اسکواڈ کی تیاری، کھلاڑیوں کی دیکھ بھال ، بجٹ مختص ، مذاکرات اور لین دین شامل ہیں۔

عبوری سی ای او نے کہا کہ مائیکل اس کام کے لیے بہترین آدمی ہے۔ان کے پاس مثالی نسب، علم، تجربہ، کوچنگ کی اہلیت اور رابطے ہیں جو اس پرجوش منصوبہ کے ذریعے مجموعی لیگ کی قدر اور کامیابی کو آگے بڑھا سکتے ہیں۔

سعدالعزیز کے مطابق سعودی عرب میں بین الاقوامی ٹیلنٹ کو متحرک کرنے کی صلاحیت بہت ہے اورکنٹرول اور مضبوط گورننس مہیا کرنے والا مرکزی کردار اس بات کو یقینی بنائے گا کہ مملکت کی سرمایہ کاری اسمارٹ ہو اور لیگ میں آگے بڑھنے والے ہر فرد کو فائدہ پہنچے۔

انھوں نے کہا کہ پیس کے ذریعے کیے گئے اقدامات لیگ کو بہتر بنانے کے لیے ایک بڑے منصوبے اور مستقبل کی حکمت عملی کا حصہ ہیں۔انھوں نے مزید کہا کہ یہ پروگرام ایس پی ایل کو عالمی معیار کا تجربہ اور مصنوعات بنائے گا جو عالمی سطح پر مشغول ہے اور دنیا کی بہترین لیگوں میں سے ایک کے طور پر طویل مدت میں مسابقتی اور پائیدار ہے۔یہ تمام فٹ بال کے لیے اچھا ہوگا، تمام کھلاڑیوں کے لیے اچھا ہوگا، اور تمام شائقین کے لیے اچھا ہوگا۔

کلب ڈویلپمنٹ فریم ورک کا آغاز

سعدالعزیز نے ایک خصوصی یونٹ کے آغاز کا بھی اعلان کیا ہے جو آپریشنز کے اعلیٰ معیارات کو لاگو کرکے، مالی اور آپریشنل کارکردگی میں اضافہ کرکے عالمی طریقوں کے اطلاق کو یقینی بنا کر کلب آپریشنز اور تکنیکی مہارت کو بہتر بنانے میں مدد کرے گا۔

انھوں نے کہا:"یہ حکمت عملی کئی سال سے تیار کی جا رہی ہے اور اس میں ترقی کے اس بے مثال موقع سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے کے لیے فٹ بال کی بہت سی عالمی مہارت شامل ہے‘‘۔

انہوں نے کہا کہ یہ کھلاڑیوں کی منتقلی سے کہیں زیادہ گہرا معاملہ ہے۔ہم کلبوں میں پچ کے باہر کیا ہوتا ہے،اس پر زیادہ توجہ مرکوز کرتے ہیں۔ ہم طویل مدت کی حکمت عملی پر غور کر رہے ہیں اور اس پر فیصلہ کیا جائے گا، خاص طور پر مضبوط کاروباری ماڈل کے ساتھ کلبوں کو تجارتی طور پر کامیاب ہونے میں مدد ملے۔کلب ڈویلپمنٹ پروگرام فیئر پلے فنانشل سسٹم کو بھی فعال کرے گا اور مقامی اور ایشیائی لائسنسنگ معیارات کی تعمیل کی نگرانی کرے گا۔ ہم آنے والے مہینوں میں مکمل حکمت عملی تیار کرنے کے منتظر ہیں۔

'کل کے لیے حکمت عملی'

ایس پی ایل کی نئی حکمت عملی سعودی عرب فٹ بال فیڈریشن کی جانب سے 2021 میں "کل کے لیے حکمت عملی" کے نعرے کے تحت شروع کیے گئے اقدام پر مبنی ہے جس کے بعد سے وسائل میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری دیکھنے میں آئی ہے۔اب تک سعودی نوجوانوں کے فٹ بال کے لیے فنڈنگ میں 162 فی صد اضافہ ہوا ہے اور 23 علاقائی تربیتی مراکز قائم کیے گئے ہیں۔

رجسٹرڈ مرد کھلاڑیوں کی تعداد میں 58 فی صد اضافہ ہوا ہے جبکہ کوچز کی تعداد 2018 میں 750 سے بڑھ کر 2023 میں 5500 سے زیادہ ہوگئی ہے جن میں 1000 سے زیادہ خواتین کوچز شامل ہیں۔

قطر میں گذشتہ فیفا ورلڈ کپ میں سعودی عرب نے ایک جھلک دکھائی کہ ہم بین الاقوامی سطح پر کیا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور اپنی ڈومیسٹک لیگ ایس پی ایل کے معیار کا مظاہرہ کیا۔ مستقبل روشن ہے۔سعودی عرب فٹ بال فیڈریشن کے صدر یاسرالمسحل نے کہا کہ سعودی عرب میں مردوں اور خواتین دونوں کے لیے فٹ بال کو فروغ دینے کے لیے بہت اچھی سوچ کی گئی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں