عالمی برادری انسانی اسمگلنگ اوراستحصال کی روک تھام کے لیے اقدامات کرے:سعودی عرب

اٹلی میں تارکینِ وطن کے بحران پرکانفرنس میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی شرکت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

سعودی عرب نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ تارکین وطن کے استحصال اور انسانی اسمگلنگ کے جرائم کی روک تھام سے متعلق چیلنجوں سے نمٹنے اور منظم جرائم کے نیٹ ورکس کے خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے ضروری اقدامات کرے۔

سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے اتوار کے روز اٹلی کے شہر روم میں مہاجرت سے متعلق منعقدہ بین الاقوامی کانفرنس میں شرکت کی ہے۔اس میں تارکینِ وطن کے بحران اور قوموں پر اس کے اثرات پر تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔

سعودی پریس ایجنسی (ایس پی اے) کے مطابق مملکت کی نمائندگی وزیر داخلہ شہزادہ عبدالعزیز بن سعود بن نائف بن عبدالعزیز نے کی اور انھوں نے کانفرنس میں ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی جانب سے ایک وفد کی قیادت کی۔

شہزادہ عبدالعزیز نے مملکت کے انسانی ہمدردی کے کاموں اور منصوبوں پر روشنی ڈالی جن کا مقصد غیر قانونی تارکین وطن کے خطرات اور استحصال کی مختلف شکلوں کے بارے میں شعور اجاگر کرنا ہے۔انھوں نے اس کانفرنس کے انعقاد میں اطالوی وزیر اعظم جارجیا میلونی کی کوششوں کو سراہا۔

انھوں نے بین الاقوامی برادری پر زور دیا کہ وہ بے ضابطہ نقل مکانی کے پیچھے کارفرما سیاسی، سماجی اور معاشی پہلوؤں سے نمٹنے کے لیے یک جہتی کا اظہاراور تعاون کرے۔

متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید آل نہیان نے بہ نفس نفیس کانفرنس میں شرکت کی۔ انھوں نے غیر قانونی امیگریشن سے متاثرہ ممالک میں ترقیاتی منصوبوں کی معاونت کے لیے اپنے ملک کی جانب سے 10 کروڑ ڈالر کی امداد کا اعلان کیا۔

کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اطالوی وزیر اعظم نے کہا کہ تارکین وطن کا غیر قانونی بہاؤ بحیرہ روم (بحرمتوسط) کے اس پار تمام ممالک کو نقصان پہنچا رہا ہے۔میلونی نے اپنے ماضی کے سخت گیر بیانات کو نرم کرتے ہوئے کانفرنس کو بتایا کہ ان کی حکومت قانونی راستوں کے ذریعے زیادہ سے زیادہ لوگوں کو لینے کے لیے تیار ہے کیونکہ ’’یورپ اور اٹلی کو امیگریشن کی ضرورت ہے‘‘۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ غیر مجاز ذرائع سے بحیرہ روم کے خطرناک راستے عبور کرنے کی کوشش کرنے والے تارکین وطن کو روکنے کے لیے مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔انھوں نے بڑے پیمانے پرغیر قانونی امیگریشن ہم میں سے ہر ایک کو نقصان پہنچاتی ہے۔ اس سے کسی کو فائدہ نہیں ہوتا، سوائے جرائم پیشہ گروہوں کے جو انتہائی کمزور لوگوں کی قیمت پر امیر ہوجاتے ہیں اور حکومتوں کے خلاف بھی اپنی طاقت کا استعمال کرتے ہیں۔

یورپی کمیشن کی صدر ارسلا وان ڈیر لیئن نے 27 ممالک پر مشتمل یورپی یونین (ای یو) میں قانونی راستوں کی پیش کش کے بارے میں میلونی کے نقطہ نظر سے اتفاق کیا۔

یورپی یونین اور تُونس نے گذشتہ ہفتے ’’تزویراتی شراکت داری‘‘ کے ایک معاہدے پر دست خط کیے تھے جس میں انسانی اسمگلروں کے خلاف کریک ڈاؤن اور سرحدوں کو سخت کرنا شامل ہے۔یورپ نے تُونس کی تباہ حال معیشت کے لیے ایک ارب یورو (1.1 ارب ڈالر) کی امداد کا وعدہ کیا ہے جبکہ 10 کروڑ یورو خاص طور پر غیر قانونی تارکین وطن سے نمٹنے کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔

وان ڈیر لیئن نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’ہم چاہتے ہیں کہ تُونس کے ساتھ ہمارا معاہدہ ایک نمونہ ہو اور مستقبل میں خطے کے دیگر ممالک کے ساتھ شراکت داری کے لیے ایک خاکا ہو‘‘۔

انھوں نے مزید کہا کہ یورپی یونین تُونس جیسے ممالک کے ساتھ مل کر قابل تجدید توانائی کی پیداوار کو سب کے فائدے کے لیے بڑھا سکتی ہے۔

لیبیا کی صدارتی کونسل کے سربراہ محمد یونس المنفی نے کانفرنس سے خطاب میں امیر ممالک سے مدد کی اپیل کی ہے۔انھوں نے کہا:’’ہم تارکین وطن کے مصائب کو روکنے کے لیے مؤثر طریقے سے حصہ لینے کو تیار ہیں‘‘۔

پوپ فرانسیس کی تقریر

پوپ فرانسیس نے اتوار کے روز سینٹ پیٹرز اسکوائر میں لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے یورپی اور افریقی حکومتوں پر زور دیا کہ وہ شمالی افریقا کے صحرائی علاقوں میں پھنسے تارکین وطن کی مدد کریں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ بحیرہ روم عبور کرنے کی کوشش کرنے والوں کے لیے سمندر دوبارہ موت کا تھیٹر نہ بن جائے۔

کانفرنس کے میزبان اٹلی کو اپنے جنوبی جزیرے لیمپیڈوسا جیسے مراکز میں پہنچنے والے غیر مجاز تارکین وطن کی تعداد سے نمٹنے میں جدوجہد کرنا پڑ رہی ہے۔تاہم ، اس کی عمر رسیدہ اور گھٹتی ہوئی آبادی بھی ہے اور اسے اپنی معیشت کو سہارا دینے کے لیے اضافی کارکنوں کی ضرورت ہے۔

رواں ماہ کے اوائل میں اٹلی نے 2023 سے 2025 تک غیر یورپی یونین کے شہریوں کے لیے 4 لاکھ 52 ہزار نئے ورک ویزے جاری کرنے کا وعدہ کیا تھا جس کے بعد 2025 میں ہر سال دستیاب اجازت ناموں کی تعداد ایک لاکھ 65 ہزار تک پہنچ جائے گی۔ 2019 میں کووِڈ 19 سے پہلے اٹلی نے صرف 30 ہزار 850 ویزے جاری کیے تھے۔

اٹلی میں اس سال سیاحوں کی آمد میں اضافہ ہو رہا ہے اور اب تک 83,000 سے زیادہ افراد ساحل پر آ چکے ہیں جبکہ 2022 کے اسی عرصے میں یہ تعداد 34،000 تھی۔

اطالوی وزیرخارجہ انتونیو تاجانی نے کانفرنس میں کہا کہ ’’ہمیں مہاجرین کے مسئلے کو اس کی جڑوں میں ہی حل کرنا ہوگا۔ہمیں موسمیاتی تبدیلی، دہشت گردی، بیماریوں اور غُربت کے خلاف جنگ جیسے بڑے مسائل پر ایک دوسرے کا سامنا کرنا ہوگا‘‘۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں