امریکی صدر جو بائیڈن نے اپنے ایک بیان میں اسرائیل پر پر زور دیا ہے کہ وہ امریکی اتحادی کو درپیش دیگر چیلنجوں کے پیش نظر تقسیم بڑھانے والی عدالتی اصلاحات میں جلدی نہ کرے۔
اتوار کے روز بائیڈن نے کہا کہ اسرائیلی رہنماؤں کے لیے جلدی کرنا کوئی معنی نہیں رکھتا - توجہ لوگوں کو اکٹھا کرنے اور اتفاق رائے حاصل کرنے پر ہونی چاہیے۔ امریکہ میں اسرائیل کے دوستوں کے نقطہ نظر سے ایسا لگتا ہے کہ موجودہ عدالتی اصلاحات کی تجویز کمی کے بجائے زیادہ تفرقہ انگیز ہوتی جا رہی ہے۔
وزیر اعظم نیتن یاہو ججوں کے اختیارات کو محدود کرنے پر مبنی اپنی متنازع تجویز کے حوالے سے جلد از جلد کنیسٹ میں ووٹنگ کرانا چاہتے ہیں۔
اس متنازع قانون پر ہفتہ کی رات بڑے پیمانے پر اسرائیل میں مظاہرے ہوئے۔ عدالتی اصلاحاتی منصوبے کے مخالفین ان ترامیم سے اسرائیل کی جمہوریت کو نقصان پہنچانے کا خدشہ ظاہر کر رہے ہیں۔
اصلاحات کے محرک وزیر انصاف یاریو لیون نے کہا کہ پیر کو قانون سازوں کے سامنے پیش کیے جانے والے بل میں ناقدین کو ایڈجسٹ کرنے کے لیے تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ لیکن انہوں نے مزید کہا کہ اتحاد اب بھی "افہام و تفہیم" کے لیے کھلا ہے۔