فلپائن: منیلا کے قریب جھیل میں کشتی الٹنے سے 23 افراد ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

فلپائن کے دارالحکومت منیلا کے قریب ایک چھوٹی کشتی جھیل میں الٹ گئی ہے جس کے نتیجے میں اس میں سوار 23 افراد ہلاک اور چھے لاپتا ہوگئے ہیں۔

یہ حادثہ منیلا کے قریب واقع لاگونا جھیل میں پیش آیا ہے۔اس سے چند گھنٹے پہلے شمالی فلپائن میں ڈاکسوری طوفان آیا تھا۔

مقامی حکام کا کہنا ہے کہ کشتی کو یہ حادثہ ’ہوا کے اچانک جھونکے، بڑی لہروں اور بارش‘ کے بعد پیش آیا ہے۔ طوفان اور خراب موسم کی وجہ سے مقامی افراد ابتدائی طور پر امدادی سرگرمیوں سے ڈر رہے تھے کیونکہ انھیں خدشہ تھا کہ وہ بھی جھیل میں طوفان کی زد میں آسکتے ہیں۔

تاہم کوسٹ گارڈ نے ایک بیان میں کہا کہ لکڑی کی کشتی کو تیز آندھی کا سامنا کرنا پڑا جس کی وجہ سے تمام مسافر گھبرا گئے اور وہ اس کے ایک طرف چلے گئے۔کوسٹ گارڈ کے ترجمان ریئر ایڈمرل ارمانڈو بالیلو نے صحافیوں کو بتایا کہ کشتی کو جھیل میں چلانے کی اجازت دی گئی تھی۔انھوں نے اس قیاس آرائی کو مسترد کردیا ہے کہ کشتی طوفان کی وجہ سے جھیل میں الٹی ہے۔

بلدیہ کے ریسکیو افسر کینتھ سیراڈوس نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ مسافر کشتی بانگونان کی بندرگاہ سے جھیل کے وسط میں واقع جزیرے تالیم کی جانب معمول کے مطابق چل رہی تھی۔انھوں نے نے مزید بتایا کہ امدادی کارکنوں نے پانی سے 23 لاشیں نکال لی ہیں اور 40 افراد زندہ بچ گئے ہیں جبکہ چھے افراد لاپتا ہیں۔

فلپائنی حکام نے جنوب مغربی مون سون میں طوفان کی شدت کے پیش نظر جزیروں کے درمیان نقل و حمل کے لیے استعمال ہونے والی لکڑی کی کشتیوں اور مسافر بردار چھوٹے جہازوں کو لوزون اور وسطی جزیروں میں ساحل پر بھیجنے کا حکم دیا تھا۔

سات ہزار سے زیادہ جزائر پر مشتمل فلپائن کا سمندری تحفظ کا ریکارڈ بہت خراب ہے اور ہر سال سمندر میں ہونے والے حادثات میں متعدد افراد ہلاک ہو جاتے ہیں۔ وہ عام طور پر مچھلی پکڑنے یا لوگوں کو ایک چھوٹے جزیرے سے دوسرے جزیرے پر منتقل کرنے کے لیے استعمال ہونے والی لکڑی سے تیار کشتیوں پر سوار ہوتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں