مصر:کوپن ہیگن میں قرآن مجید کوجلانے کے واقعات پر قاہرہ میں ڈینش سفیر طلب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

مصر کی وزارتِ خارجہ نے ڈنمارک کے دارالحکومت کوپن ہیگن میں قرآن مجید کو جلانے کے حالیہ واقعات پر قاہرہ میں متعیّن ڈینش سفیر کو جمعرات کے روزطلب کیا ہے اور ان سے احتجاج کیا ہے۔

منگل کے روز کوپن ہیگن میں مصری سفارت خانے کے سامنے پانچ اسلام مخالف کارکنوں نے قرآن مجید کے ایک نسخے کونذر آتش کیا تھا۔ ڈنمارک میں ایک ہفتے سے بھی کم عرصے میں مسلمانوں کی مقدس کتاب کی بے حرمتی کا اس طرح کا یہ تیسرا واقعہ تھا۔

مصر نے ڈنمارک اور دیگر ممالک کے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس طرح کے افسوس ناک واقعات کی ہمیشہ کے لیے روک تھام کی غرض سے ٹھوس اقدامات کریں۔

کوپن ہیگن میں 'ڈینش پیٹریاٹس' نامی گروپ کے ان اسلام مخالف مٹھی بھر دریدہ دہنوں نے ترکیہ کے سفارت خانے کے سامنے بھی قرآن مجید کا نسخہ نذرآتش کیا تھا۔ڈنمارک اور سویڈن کے ارباب اقتدارکا ان واقعات پرکہنا ہے کہ وہ قرآن کو جلانے کی مذمت کرتے ہیں لیکن آزادیِ اظہار کے قوانین کے تحت اسے روک نہیں سکتے۔ان دونوں ملکوں میں تین مرتبہ قرآن مجید کی انتہائی بے توقیری کی گئی ہے۔

گذشتہ ہفتے عراقی مظاہرین نے قرآن مجید کی بے حرمتی کے واقعات کے ردعمل میں بغداد میں سویڈن کے سفارت خانے کو آگ لگا دی تھی۔اس سے پہلے گذشتہ پیر اور ہفتے کے روزعراق کے سفارت خانے کے سامنے قرآن مجید کے نسخے نذر آتش کیے گئے تھے۔ گذشتہ ایک ماہ کے دوران میں سویڈن میں اس طرح کے دو واقعات پیش آچکے ہیں۔

عراق کی وزارتِ خارجہ نے یورپی یونین کے ممالک کے حکام پر زور دیا تھا کہ وہ قرآن مجید کی بے حرمتی کے مسلسل واقعات کی روشنی میں اظہار رائے کی نام نہاد آزادی اور مظاہرے کے حق پر فوری نظر ثانی کریں۔

ترکیہ نے کہا کہ وہ قرآن پر 'گھناؤنے حملے' کی شدید مذمت کرتا ہے اور ڈنمارک سے اس کے ذمے داروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کرتا ہے۔اس نے اسلام کے خلاف اس ’’نفرت انگیزجُرم‘‘ کی روک تھام کے لیے ضروری اقدامات کا مطالبہ کیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں