مودی حکومت پر دباؤ بڑھانے کے لیے حزبِ اختلاف ’انڈیا‘ کے لیڈروں کا منی پور کا دورہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

بھارت میں حزبِ اختلاف کے قانون سازوں کے ایک گروپ نے ہفتے کے روز دور افتادہ شمال مشرقی ریاست منی پور کا دورہ کیا ہے جہاں نسلی بنیاد پر مہلک جھڑپوں میں کم سے کم 130 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ان کے دورے کا مقصد ریاست میں مئی سے جاری تشدد کے خلاف کارروائی کے لیے وزیراعظم نریندرمودی کی حکومت پر دباؤ ڈالنا ہے۔

’انڈیا‘(بھارت) نامی نئے اتحاد میں شامل 15سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے 20 قانون سازوں کا ایک وفد ریاست منی پور کے دو روزہ دورے پر پہنچا تاکہ زمینی صورت حال کا جائزہ لیا جا سکے۔ریاست میں حالیہ مہینوں میں جاری تشدد اور خونریزی نے ہزاروں افراد کو بے گھر کر دیا ہے۔

حزب اختلاف کی کانگریس پارٹی سے تعلق رکھنے والے قانون ساز ادھیر رنجن چودھری نے کہا کہ منی پور میں تنازع تشدد کے پیمانے کی وجہ سے ایک عالمی مسئلہ بن گیا ہے۔ہمارا وفد مشکل کی اس گھڑی میں منی پور کے عوام کے ساتھ اظہارِ یک جہتی کے لیے یہاں آیا ہے اور ہماری اوّلین ترجیح جلد از جلد حالات کو معمول پر لانا ہے۔

میانمار کی سرحد کے ساتھ واقع پہاڑوں میں گھری ریاست منی پور خانہ جنگی کے دہانے پر کھڑی ہے۔ بلوائیوں نے مختلف دیہات میں توڑ پھوڑ کی ہے، گھروں اور عمارتوں کو نذر آتش کر دیا ہے۔

یہ تنازع ایک متنازع اقدام کی وجہ سے شروع ہوا تھا جس میں عیسائی کوکیوں نے ایک خصوصی حیثیت کے لیے ہندو میتیوں کے مطالبے کی مخالفت کی تھی۔اس اقدام سے ہندوؤں کو کوکیوں اور دیگر قبائلی گروہوں کی آبادی والی پہاڑیوں میں زمین خریدنے اور سرکاری ملازمتوں میں حصہ حاصل کرنے کی اجازت ہوگی۔

ریاست کی راجدھانی امپھال پہنچنے کے بعد قانون ساز چورا چند پور ضلع گئے جہاں انھوں نے دو امدادی کیمپوں کا دورہ کیا اور کمیونٹی رہ نماؤں سے بات چیت کی۔اس تنازع نے بھارتی پارلیمان میں بھی تعطل پیدا کر دیا ہے اور حزب اختلاف کے ارکان نے ریاست میں جاری تشدد پر وزیر اعظم نریندر مودی سے بیان جاری کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

بدھ کو اپوزیشن نے مودی حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ حکومت کو جلد ہی پارلیمنٹ میں عدم اعتماد کے ووٹ کا سامنا کرنا پڑے گا لیکن اس کی شکست کا امکان ہے ، کیونکہ مودی کی پارٹی اور اس کے اتحادیوں کو لوک سبھا میں واضح اکثریت حاصل ہے۔

لیکن حزب اختلاف کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ یہ اقدام کم از کم مودی کو تنازع پر بات کرنے اور بحث شروع کرنے پر مجبور کر سکتا ہے۔دو ہفتے قبل مودی نے منی پور میں تنازع پر دو ماہ سے زیادہ کی عوامی خاموشی توڑ دی تھی جب انھوں نے ریاست میں دو خواتین پر ہجوم کے حملوں کی مذمت کی تھی۔

تشدد کے واقعات شروع ہونے کے بعد سے انھوں نے ریاست کا دورہ نہیں کیا ہے، جہاں ان کی ہندو قوم پرست جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت ہے۔پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کی کارروائی گذشتہ ہفتے مختلف اوقات میں ملتوی کردی گئی تھی اور اپوزیشن نے مودی کے بیان تک کارروائی معطل رکھنے کا اعلان کیا تھا۔

منی پور میں فوج کی بھاری تعداد میں موجودگی اور اس سے پہلے وزیر داخلہ کے دورے کے باوجود مہلک جھڑپیں جاری ہیں۔ اس ریاست میں تشدد کے واقعات اور دو خواتین پر بہیمانہ حملے کے بعد پچھلے ہفتے ملک بھر میں مظاہرے ہوئے تھے۔ منی پور میں حال ہی میں ہزاروں لوگوں نے دھرنا دیا تھا اور ریاست کے منتخب اعلیٰ عہدہ دار بیرن سنگھ کو برطرف کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ان کا تعلق بھی مودی کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی سے ہے۔

ادھر یورپی پارلیمان نے حال ہی میں ایک قرارداد منظور کی ہے جس میں ہندوستانی حکام سے منی پور میں تشدد کو روکنے اور مذہبی اقلیتوں خاص طور پر عیسائیوں کے تحفظ کے لیے کارروائی کا مطالبہ کیا گیا ہے جبکہ بھارت کی وزارت خارجہ نے اس قرارداد کی مذمت کرتے ہوئے اسے اپنے اندرونی معاملات میں مداخلت قرار دیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں