ڈنمارک میں قرآن جلانے سے متعلق مظاہروں پر پابندی عاید کرنے پرغور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ڈنمارک کی حکومت نے اتوار کے روز کہا ہے کہ وہ مخصوص حالات میں مقدس کتابوں کو نذر آتش کرنے سے متعلق مظاہروں کو روکنے کے لیے قانونی طریقے تلاش کرے گی۔اس نے ڈنمارک اور سویڈن میں قرآن مجید کی بے حرمتی کے واقعات پر ردعمل کے بعد سکیورٹی خدشات کا حوالہ دیاہے۔

ڈنمارک کی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اس طرح کے مظاہروں میں انتہا پسندوں کا ہاتھ کارفرما ہے اور حکومت ایسے حالات میں مداخلت کرنا چاہتی ہے جہاں 'دوسرے ممالک، ثقافتوں اور مذاہب کی توہین کی جا رہی ہے اور جہاں اس کے ڈنمارک پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ یقینی طور پر آئینی طور پر محفوظ آزادی اظہار کے فریم ورک کے اندر اور اس انداز میں کیا جانا چاہیے جس سے اس حقیقت کو تبدیل نہ کیا جائے کہ ڈنمارک میں اظہار رائے کی آزادی کا دائرہ بہت وسیع ہے۔

مسلمانوں کی مقدس کتاب کی بے حرمتی سے متعلق حالیہ مظاہروں نے مشرق اوسط اور دونوں نارڈک ممالک میں سفارتی تناؤ کو بڑھا دیا ہے۔ڈنمارک کی حکومت کا کہنا ہے کہ مظاہرے اس سطح پر پہنچ چکے ہیں کہ براعظموں میں،دنیا کے کئی حصوں میں ڈنمارک کو ایک ایسے ملک کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جو دوسرے ممالک کی ثقافتوں، مذاہب اور روایات کی توہین اور تضحیک کی سہولت فراہم کرتا ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ کچھ کارروائیوں کا 'بنیادی مقصد' اشتعال دلانا تھا اور اس کے اہم نتائج برآمد ہوسکتے ہیں۔ڈنمارک اور سویڈن کے سفیروں کو مشرق اوسط کے کئی ممالک میں طلب کیا گیا ہے۔

سویڈش وزیر اعظم الف کرسٹرسن نے کہا کہ وہ اپنے ڈنمارک کے ہم منصب میٹ فریڈرکسن کے ساتھ قریبی رابطے میں ہیں اور سویڈن میں بھی اسی طرح کا عمل پہلے ہی جاری ہے اور ہم نے پہلے ہی قانونی صورت حال کا تجزیہ کرنا شروع کر دیا ہے۔

کرسٹرسن نے انسٹاگرام پر ایک پوسٹ میں کہا کہ دنیا بھر میں سویڈن کی قومی سلامتی کو مضبوط بنانے کے اقدامات پر غور کیا جارہا ہے۔

دریں اثناء سعودی عرب اور عراق نے سویڈن اور ڈنمارک میں قرآن پاک کی بے حرمتی کے واقعات پر جدہ میں قائم اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کا اجلاس سوموار کو طلب کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں