بھارتی لوک سبھا میں گوگل، میٹا کے مفاد میں ڈیٹا پرائیویسی بل کی منظوری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

بھارت کی پارلیمنٹ کے ایوان زیریں لوک سبھا نے پیر کے روز ایک بل کی منظوری دی ہے جس کا مقصد ٹیکنالوجی کی بڑی کمپنیوں کے ساتھ ساتھ بیرون ملک ترقی کی خواہش مند مقامی کمپنیوں کے لیے ڈیٹا ذخیرہ کرنے ، پروسیسنگ اور منتقلی کے اصولوں کو آسان بنانا ہے۔

کئی برس میں تیار شدہ ڈیجیٹل پرسنل ڈیٹا پروٹیکشن بل، 2023 کمپنیوں کو نئی دہلی کی طرف سے متعین کردہ اعداد و شمار کے علاوہ کسی بھی کوشش میں ڈیٹا برآمد کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ یہ اقدام الفابیٹ انکارپوریٹڈ کے گوگل اور میٹا پلیٹ فارمز انکارپوریٹڈ جیسے عالمی کاروباری اداروں کے لیے ایک نعمت غیر مترقبہ ہے کیونکہ یہ ڈیٹا کے بہاؤ کو آسان بناتا ہے اور ان کی تعمیل کے بوجھ کو کم کرتا ہے۔

نومبر میں عوامی سطح پر جاری ہونے والے ایک مسودے میں حکومت کی جانب سے طے شدہ اعدادو شمار کے علاوہ تمام خطوں میں ڈیٹا کی برآمد کو محدود کر دیا گیا تھا۔

بھارت کی ایک قانونی فرم کھیتان اینڈ کمپنی کی ممبئی سے تعلق رکھنے والی شراکت دار انیشا چند کا کہنا ہے کہ 'موجودہ بل ایک قابل اعتماد دائرہ اختیار یا ملک سے سرحد پار ڈیٹا کی منتقلی کے لیے نرم منفی فہرست کی طرف اشارہ کرتا ہے، جو یقینی طورپرکاروبار کے حق میں ایک قدم ہے۔

بھارت کی ایک ارب چالیس کروڑ آبادی میں سے قریباً نصف لوگ انٹرنیٹ کا استعمال کرتے ہیں ، جس سے یہ خطہ ٹیکنالوجی کی عالمی کمپنیوں کے لیے ترقی کی ایک اہم مارکیٹ بن جاتا ہے۔دنیا بھر کی حکومتوں کی طرح بھارت بھی کاروباری اداروں کی ضروریات کو افراد کے ڈیٹا پرائیویسی کے حقوق کے ساتھ متوازن کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

یہ مجوزہ قانون بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی ٹیکنالوجی سے متعلق قوانین کو بہتر بنانے کی مہم کا حصہ ہے اور یہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دنیا کے سب سے زیادہ آبادی والے ملک میں اسمارٹ فونز اور موبائل ایپس کے استعمال میں اضافے کی وجہ سے ڈیجیٹل کاری کا عمل روزافزوں ہے۔

بل کے مطابق کمپنیوں کو ذاتی ڈیٹا جمع کرنے سے پہلے رضامندی حاصل کرنے کی ضرورت ہوگی اور انھیں فریقین کے درمیان معاہدے میں ذکر کردہ مقاصد کے سوا کسی اور مقصد کے لیے ڈیٹا کو استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔اس کا مطلب یہ ہے کہ کمپنیاں ذاتی ڈیٹا کو کسی نامعلوم شخص سے منسوب کرکے استعمال نہیں کرسکتی ہیں اور اسے مصنوعی ذہانت کے ماڈل جیسی مصنوعات کے لیے بھی استعمال کی مجاز نہیں ہوں گی۔

اس بل کے تحت فن ٹیک کمپنیوں کے لیے مرکزی بینک جیسے مخصوص ریگولیٹرز کو ان کے زیرنگرانی کام کرنے والی صنعتوں کے ڈیٹا قوانین پر وسیع تراختیار دیا گیا ہے۔اب اس بل کو پارلیمان کے ایوانِ بالا راجیہ سبھا کی منظوری کی ضرورت ہے، جہاں نریندر مودی کے حکمراں اتحاد کے پاس اکثریت نہیں ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں