افغانستان میں داعش کے حالیہ حملوں میں درجنوں پاکستانی ملوّث ہیں:طالبان حکومت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

طالبان حکام نے کہا ہے کہ گذشتہ ایک سال کے دوران میں افغانستان میں داعش کے درجنوں پاکستانی عسکریت پسند ہلاک ہوئے یا پکڑے گئے ہیں۔ان کے اس دعوے چند روز قبل اسلام آباد نے افغانوں پر اپنی سرزمین پر خودکش حملوں میں ملوّث ہونے کا الزام عاید کیا تھا۔

حال ہی میں پاکستان میں خودکش حملوں میں اضافے کی وجہ سے ہمسایہ ممالک کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے اور اسلام آباد نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیاں کرنے والوں کو اکثر افغان شہریوں کی مدد حاصل ہوتی ہے۔

افغان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے بدھ کے روز فرانسیسی خبررساں اے ایف پی کو بتایا کہ گذشتہ سال افغانستان میں ہماری فورسز کے ہاتھوں ہلاک ہونے والے 18 افراد پاکستانی شہری تھے۔

انھوں نے کہا:’’ یہ تمام جنگجو داعش کے ارکان تھے اور وہ مختلف بم دھماکوں اور حملوں میں ملوّث تھے۔ ان کے علاوہ درجنوں دیگر افغان جیلوں میں قید ہیں‘‘۔

انھوں نے یہ بات منگل کی رات جاری ہونے والے ایک بیان میں کہی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ’’خطے میں کسی بھی ملک کی سلامتی کی ناکامی‘‘کے لیے طالبان حکام کو مورد الزام نہیں ٹھہرایا جانا چاہیے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کو مورد الزام ٹھہرانے کے بجائے افغان حکومت نے اپنے حفاظتی اقدامات کو مزید سخت کر دیا ہے۔

یہ پہلا موقع ہے جب طالبان حکام نے کھلے عام افغانستان میں حملوں کا الزام پاکستانی جنگجوؤں پر عاید کیا ہے۔اسلام آباد کا کہنا ہے کہ پاکستان میں حملے کرنے والے جنگجو افغانستان میں محفوظ پناہ گاہوں سے کارروائیاں کررہے ہیں اورانھیں افغان شہریوں کی مدد حاصل ہے۔

سوموار کو پاک فوج کے سربراہ جنرل سیّدعاصم منیرنے کہا تھا کہ افغان شہریوں کی علاقائی امن، استحکام کے لیے شمولیت ضروری ہے اور دوحہ امن معاہدے سے انحراف کے لیے نقصان دہ ہوگا۔

طالبان حکام مسلسل اس عزم کا اظہارکرتے رہے ہیں کہ وہ غیرملکی عسکریت پسندوں کو بیرون ملک حملوں کے لیے افغان سرزمین استعمال نہیں کرنے دیں گے۔یہ اس معاہدے کا ایک اہم عنصر ہے۔

گذشتہ ہفتے افغانستان کے سرکاری میڈیا نے وزیر دفاع ملّا یعقوب کی ایک تقریر نشر کی تھی جس میں انھوں نے سکیورٹی یونٹوں کوخبردار کیا تھا کہ افغانستان سے باہر لڑنا مذہبی طور پر ’جہاد‘نہیں بلکہ جنگ ہے، جسے سپریم لیڈر ہیبت اللہ اخوندزادہ نے ممنوع قرار دیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں