اقوام متحدہ نے یمن کے قریب کھڑے بحری ٹینکر صافر سے تیل منتقلی مکمل کر لی
مزید فنڈز کی ضرورت، فوری بحران ٹل گیا، صافر کو محفوظ طریقے سے ہٹانے کا آپریشن ابھی ختم نہیں ہوا: بلینکن
اقوام متحدہ نے اعلان کیا ہے کہ اس نے یمن کے ساحل کے قریب بحیرہ احمر میں موجود بحری ٹینکر ’’ صافر‘‘ سے 10 لاکھ بیرل تیل نکالنے کا کام مکمل کر لیا ہے۔ دریں اثنا امریکہ نے اس منصوبے کی تکمیل کو سراہا لیکن خبردار کیا کہ اس حوالے سے مزید امداد کی ضرورت ہے۔
ایران کے حمایت یافتہ حوثی برسوں سے اس آپریشن کو روک رہے تھے۔ جس سے بحری جہاز سے تیل کے پھیلاؤ کا خطرہ تھا۔ ماہرین نے خبردار کیا تھا کہ تیل کے پھیلنے کی صورت میں اسے صاف کرنے میں دسیوں ارب ڈالر خرچ ہو سکتے ہیں۔ یہ ٹینکر 2014 تک یمنی تیل کی برآمدات کے لیے تیرتے ہوئے آف شور ٹرمینل کے طور پر کام کر رہا تھا۔
یمن کے لیے خصوصی ایلچی ٹم لینڈرکنگ کی قیادت میں امریکہ اور اقوام متحدہ نے ٹینکر کو اتارنے کے لیے لابنگ میں اہم کردار ادا کیا۔ سکریٹری آف سٹیٹ بلینکن نے کہا ہے کہ فوری طور پر بحران ٹل گیا ہے تاہم صافر کو محفوظ طریقے سے ہٹانے سمیت مکمل آپریشن ابھی ختم نہیں ہوا ہے۔
امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ اقوام متحدہ کو کام کو ختم کرنے اور باقی تمام ماحولیاتی خطرات سے نمٹنے کے لیے درکار 22 ملین ڈالر کے فنڈنگ خلا کو پر کرنے کے لیے مالی مدد کی ضرورت ہے۔
سعودی پریس ایجنسی کی خبر کے مطابق سعودی عرب نے جمعہ کو اقوام متحدہ کے اعلان کا خیرمقدم کیا اور گوٹیرس کی کوششوں پر ان کا بھی شکریہ ادا کیا۔ بیان میں کہا گیا کہ سعودی عرب کی وزارت خارجہ نے بھی یمن کی قیادت کا شکریہ ادا کیا ہے۔