جارجیا:ڈونلڈ ٹرمپ اور18مصاحبین پر2020 کے صدارتی انتخابات میں مداخلت پر فردِجُرم عاید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

امریکا کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر ریاست جارجیا کی گرینڈ جیوری نے 2020 کے صدارتی انتخابات میں ڈیموکریٹ جو بائیڈن کے ہاتھوں شکست کو تبدیل کرنے کی کوشش میں فردالزام عاید کی ہے۔ان کے ساتھ اس کیس میں ان کے اٹھارہ مصاحبین کو ماخوذ کیا گیا ہے۔

فُلٹن کاؤنٹی کے ڈسٹرکٹ اٹارنی فانی ولیس کے عاید کردہ الزامات نے ٹرمپ کو درپیش قانونی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے۔ وہ اس وقت 2024 کے صدارتی انتخابات کے لیے ری پبلکن پارٹی کی جانب سے نامزدگی کی دوڑ میں سب سے آگے ہیں۔

98صفحات کو محیط فردِجُرم میں 19 مدعا علیہان پر مجموعی طور پر 41 مجرمانہ الزامات درج ہیں۔ تمام مدعا علیہان پر ریکٹنگ (ریکٹ کاری) کا الزام عاید کیا گیا تھا۔یہ اصطلاح منظم جرائم کے گروہوں کے ارکان کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔انھیں اس مقدمے میں 20 سال تک قید کی سزا ہوسکتی ہے۔

دیگر مدعا علیہان میں ٹرمپ کے وائٹ ہاؤس کے سابق چیف آف اسٹاف مارک میڈوز،وکیل روڈی جولیانی اور جان ایسٹ مین شامل ہیں۔فرد جرم میں کہا گیا ہے کہ’’ٹرمپ اور دیگر مدعا علیہان نے یہ تسلیم کرنے سے انکار کردیا کہ ٹرمپ ہار گئے اور انھوں نے جان بوجھ کر انتخابات کے نتائج کو ٹرمپ کے حق میں غیر قانونی طور پر تبدیل کرنے کی سازش میں حصہ لیا‘‘۔

یہ کیس 2 جنوری 2021 کو ایک فون کال سے شروع ہوا ہے جس میں ٹرمپ نے ریاست جارجیا کے اعلیٰ انتخابی عہدے دار بریڈ رافنسپرگر پر زور دیا تھا کہ وہ ریاست میں اپنی معمولی شکست کو پلٹنے کے لیے کافی ووٹ حاصل کریں۔رافنسپرگر نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا۔

ٹرمپ کے حامیوں نے چار دن بعد امریکی کیپیٹل پر دھاوا بول دیا تھا تاکہ قانون سازوں کو بائیڈن کی جیت کی تصدیق کرنے سے روکا جا سکے۔فردِ جُرم میں ٹرمپ یا ان کے ساتھیوں کی جانب سے مبیّنہ طور پر کیے گئے متعدد جرائم کا حوالہ دیا گیا ہے، جن میں قانون سازوں کے سامنے جھوٹی گواہی دینا کہ انتخابی دھاندلی ہوئی ہے اور ریاستی حکام پر زور دیا گیا ہے کہ وہ انتخابی نتائج میں تبدیلی کرکے اپنے عہدے کے حلف کی خلاف ورزی کریں۔

استغاثہ نے جارجیا کی ایک دیہی کاؤنٹی میں ووٹنگ کے نظام کی خلاف ورزی اور ایک انتخابی کارکن کو ہراساں کرنے کا بھی حوالہ دیا جو سازشی نظریات کا مرکز بن گیا۔اس میں صدر اور نائب صدر کا انتخاب کرنے والے الیکٹورل کالج بنانے والے رائے دہندگان کی جعلی فہرستیں پیش کرکے امریکی انتخابی عمل کو تباہ کرنے کے مبیّنہ منصوبے کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔

فردِ جُرم مختلف ریاستوں تک پہنچتی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ جولیانی اور میڈوز سمیت ٹرمپ کے مشیروں نے ایریزونا، پنسلوانیا اور دیگر جگہوں پر حکام کو فون کرکے ان ریاستوں میں نتائج کو تبدیل کرنے کی کوشش کی۔ٹرمپ نے کسی بھی غلط کام سے انکار کیا ہے اور منتخب ڈیموکریٹس پر الزام عاید کیا ہے کہ ان کے خلاف سیاسی محرکات پر مبنی ہیں۔

ٹرمپ پہلے ہی تین مجرمانہ مقدمات میں بے قصور ہونے کا اعتراف کر چکے ہیں۔ان کے خلاف 25 مارچ 2024 کو نیویارک میں مقدمے کی سماعت شروع ہوگی جس میں ایک پورن اسٹار کو خفیہ طور پر رقم ادا کرنے اور 20 مئی سے فلوریڈا میں وفاقی خفیہ دستاویزات کیس میں مقدمے کی سماعت شروع ہوگی۔ دونوں معاملوں میں ٹرمپ نے خود کو بے قصور قرار دیا ہے۔

تیسری فردِجُرم واشنگٹن کی وفاقی عدالت میں عاید کی گئی ہے جس میں ان پر الزام عاید کیا گیا ہے کہ وہ 2020ء کے انتخابات میں اپنی شکست کو غیر قانونی طور پر تبدیل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ٹرمپ نے اس کیس میں کسی غلط روی سے انکار کیا ہے۔اس مقدمے کی سماعت کی تاریخ ابھی طے نہیں کی گئی ہے۔

جارجیاکبھی قابل اعتماد طور پر ری پبلکن کا مضبوط سیاسی گڑھ تھی ۔ اب سیاسی طور پر مسابقتی ریاستوں میں سے ایک کے طور پر ابھر ہے اور صدارتی انتخابات کے نتائج کے تعیّن میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔

ٹرمپ نے نومبر 2020 میں منعقدہ انتخابات میں جیتنے کا جھوٹا دعویٰ کیا تھا حالانکہ درجنوں عدالتی مقدمات اور ریاستی تحقیقات میں ان کے دعوے کی حمایت میں کوئی ثبوت نہیں ملا ہے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ ان الزامات سے ٹرمپ کے لیے ری پبلکن حمایت میں اضافہ ہو سکتا ہے لیکن یہ اگلے سال ہونے والے عام انتخابات میں انھیں نقصان پہنچا سکتے ہیں، جب انھیں زیادہ آزاد خیال ووٹروں کا دل جیتنا ہو گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں