افریقی یونین نے فوجی بغاوت کے بعد نیجر کی رُکنیت معطل کردی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

افریقی یونین نے نیجر میں سویلین حکمرانی کی بحالی تک اس کی رُکنیت معطل کردی ہے۔

نیجر کی فوجی جنتا نے گذشتہ ماہ صدر محمدبازوم کی حکومت ختم کردی تھی اور اقتدار پر قبضہ کر لیا تھا۔نیجر کی افریقی یونین میں شرکت معطل کرنے کے معاملے پر رکن ممالک کے درمیان شدید اختلاف پیدا ہوئے ہیں۔

تاہم تنظیم کی امن اور سلامتی کونسل نے منگل کے روز افریقی یونین کمیشن سے درخواست کی ہے کہ وہ نیجر میں فوج کی تعیناتی کے اقتصادی ، سماجی اور سلامتی سے متعلق مضمرات کا جائزہ لے اور اس کی رپورٹ واپس کونسل کو پیش کرے۔

نیجر کے اعلیٰ فوجی افسروں نے 26 جولائی کو صدر محمد بازوم کی حکومت کا تختہ الٹ دیا تھا جس کے ردعمل میں مغربی افریقا کے علاقائی بلاک ایکوواس نے ان کی حکومت کی بحالی کے لیے فوجی قوت کے استعمال کی دھمکی دی تھی۔

مغربی افریقا کی ریاستوں کی اقتصادی کمیونٹی (ایکوواس) نے نیجر میں جمہوریت کی بحالی کے لیے آخری چارہ کار کے طور پر’’متبادل فورس‘‘ کو فعال کرنے سے اتفاق کیا ہے۔

اس نے کہا ہے کہ وہ کارروائی کے لیے تیار ہے البتہ وہ مسئلہ کے سفارتی حل کی امید میں کوششیں بھی جاری رکھے گی۔

افریقی یونین نے گذشتہ ہفتے رکن ممالک کے درمیان نیجر میں فوجی مداخلت کے معاملے پرمختلف نکتہ ہائے نظر کو سلجھانے کے لیے ایک اجلاس بھی منعقد کیا تھا۔

نیجر میں فوجی بغاوت سے بین الاقوامی سطح پر ساحل کی صورت حال کے بارے میں تشویش پیدا ہوئی ہے جہاں داعش اور القاعدہ سے وابستہ شورش پسندی میں اضافہ ہورہا ہے۔

نیجر مغربی افریقا کا چوتھا ملک ہے جہاں 2020ء کے بعد فوجی بغاوت برپا ہوئی ہے۔اس سے پہلے بورکینافاسو ، گنی اور مالی میں فوجی بغاوتیں برپا ہوچکی ہیں اور ان ممالک میں مسلح افواج نے منتخب حکومتوں کو چلتا کیا ہے۔

بورکینا فاسو اور مالی کی فوجی جنتاؤں نے خبردار کیا ہے کہ ان کے پڑوس میں واقع ملک میں کسی بھی فوجی مداخلت کو وہ اپنے ملکوں کے خلاف ’’اعلان جنگ‘‘ قراردیں گی۔

یادرہے کہ فرانس سے 1960ء میں آزادی کے بعد نیجر کی تاریخ میں یہ پانچویں فوجی بغاوت ہے۔محمد بازوم سنہ 2021ء میں منعقدہ صدارتی انتخابات میں منتخب ہوئے تھے اور ملک میں پہلی مرتبہ پُرامن طریقے سے انتقالِ اقتدار کا تاریخی عمل مکمل ہوا تھا۔فوج نے انھیں اقتدار سے ہٹانے کے بعد سے صدر کی سرکاری رہائش گاہ پران کے خاندان کے ساتھ زیرحراست رکھا ہوا ہے۔فوج کی تحویل میں ان کی صحت کے بارے میں بین الاقوامی سطح پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں