کیلیفورنیا فائرنگ کا معمہ حل، ملزم بیوی کو قتل کرنا چاہتا تھا مگر تین گاہک مارے گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

پولیس نے بتایا کہ امریکی ریاست کیلیفورنیا کے ایک بار میں ایک شوٹر اپنی طلاق یافتہ بیوی کو مارنے کی کوشش کر رہا تھا مگر گولیاں وہاں پر موجود تین گاہکوں لگیں جس کے نتیجے میں تین افراد ہلاک اور چھ زخمی ہوگئے جب کہ اس کی بیوی بچ گئی۔

اورنج کاؤنٹی کے شیرف ڈان بارنس نے جمعرات کو ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ 59 سالہ جان سنولنگ ایک سابق پولیس اہلکار تھے اور اپنی اہلیہ ماری کو طلاق دینے کے چکر میں تھے۔

فائرنگ کا واقعہ لاس اینجلس سے 70 کلومیٹر جنوب مشرق میں واقع ایک بائیکر بار کاکس کارنر میں پیش آیا۔

بارنس نے وضاحت کی کہ جب سنولنگ بار میں داخل ہوا تو وہ "سیدھا اس (اپنی بیوی) کی طرف چلا گیا۔ ان کے درمیان کوئی بحث، مکالمہ یا جھگڑا نہیں ہوا، لیکن اس نے فوراً اسے گولی مار دی۔"

اس کی بیوی بچ گئی اور اس وقت ہسپتال میں زیر علاج ہے۔

اس کے بعد اس شخص نے ایک خاتون کو گولی مار دی جو ماری کے ساتھ کھانا کھا رہی تھی اور دو دیگر مردوں کو بھی مار ڈالا۔ ہلاک ہونے والوں کے علاوہ چھ دیگر افراد زخمی ہوئے جن میں سے دو کی حالت تشویشناک ہے۔ بارنس نے کہا کہ سنولنگ کو بار کے پیچھے پارکنگ میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ تصادم کے دوران گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔

سابق وینٹورا کاؤنٹی پولیس اہلکار لاس اینجلس کے شمال میں تقریباً تیس سال کی سروس کے بعد 2014 میں ریٹائر ہوئے۔ حکام کے مطابق اس کی بیوی نے دسمبر میں طلاق کے لیے درخواست دائر کی تھی۔

سسر ولیم موسبی نے اورنج کاؤنٹی رجسٹر کو بتایا "اس کا داماد ایک پاگل شخص تھا اور وہ طلاق کو سنبھال نہیں سکتا تھا۔"

امریکا اپنی سرزمین پر آتشیں اسلحے کے پھیلاؤ اور ان تک امریکی شہریوں کی آسان رسائی کے مسئلے سے دوچار ہے۔

ملک میں شہریوں کی تعداد سے زیادہ انفرادی ہتھیار ہیں۔ تین میں سے ایک بالغ کے پاس آتشیں اسلحہ ہے اور تقریباً 50 فیصد بالغ افراد ایک گھر میں بندوق کے ساتھ رہتے ہیں۔

غیر سرکاری گروپ گن وائلنس آرکائیو کے مطابق امریکا میں اس سال بندوق کے تشدد کے نتیجے میں کم از کم 12,346 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں