سوئٹرزلینڈ کے علاقے لوسیرن میں چار سال قبل ریل کی ایک بوگی سےملنے والی سونے کی سلاخوں کے مالک کا پتا نہ چلنے کے بعد پبلک پراسیکیوشن آفس نے جمعہ کے روز سونے کو ریڈ کراس کے حوالے کر دیا۔
علاقائی پبلک پراسیکیوٹر کے دفتر نے ایک بیان میں کہا کہ اکتوبر 2019ء میں ایک ٹرین اٹینڈنٹ کو سینٹ گیلن سے لوسیرن کی طرف جانے والی ٹرین سے ایک پیکٹ ملا تھا۔
پارسل پر موجود اسٹیکرز میں "انٹرنیشنل کمیٹی آف ریڈ کراس کا قیمتی سامان" لکھا گیا تھا۔ ریڈ کراس کا صدر دفترسوئس شہر جنیوا میں واقع ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ "پارسل میں سونے کی 120 سلاخیں تھیں۔ سب پر ایک لوگو اورایک جیسا سیریل نمبردرج تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ سونے کا کل وزن 3.7 کلو گرام ہے۔
بیان میں ٹکڑوں کی قیمت کا ذکر نہیں کیا گیا، لیکن 24 قیراط سونے کی سلاخیں فی کلو تقریباً 60,000 ڈالر میں فروخت ہوتی ہیں۔
لوسیرن میں پبلک پراسیکیوٹر کے دفتر کے مطابق وسیع تحقیقات کے باوجود سونے کی سلاخوں کے مالک کی شناخت نہیں ہوسکی ہے۔ ممکنہ طور پر یہ سونا چوری کا ہوسکتا ہے مگر مالک نے شائد پکڑے جانے کے خوف سے وہاں چھوڑ کر فرار اختیار کرلیا تھا۔ تاہم چار سال کی چھان بین کے بعد اس کی مزید تلاش بند کردی گئی ہے۔