فرانسیسی کوچ نے 30 سال قبل کئی بار زیادتی کا نشانہ بنایا: تونس کی ٹینس پلیئر

سلیمہ صفر کے الزام سے قبل ہی کوچ ریگیس ڈی کیمریٹ 2014 میں دو نابالغ کھلاڑیوں سے زیادتی کے مقدمات میں 10 سال کیلئے قید ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

تونس کی سابق ٹینس کھلاڑی سلیمہ صفر نے 3 دہائیوں سے زائد عرصے کے بعد خاموشی توڑنے کا فیصلہ کیا اور فرانس کے ایک تربیتی مرکز میں 12 سال کی عمر میں فرانسیسی کوچ کی جانب سے زیادتی کئے جانے کا چونکا دینے کا انکشاف کردیا۔

کھلاڑی سلیمہ صفرواحد نہیں ہیں جسے ریگیس ڈی کیمری نے جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا تھا۔ کیونکہ ازابیل ڈیمونگو نے بھی اپنی کتاب "سروس والی" میں اس پر ریپ کا الزام لگایا تھا۔ اس حوالے سے متاثرین کی بیس سے زائد شہادتیں جمع کی گئی تھیں۔ کتاب کی وجہ سے کوچ کو یکم اگست 2019 کو رہا ہونے سے پہلے 2014 میں دس سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

اس معاملے کے بارے میں صفر نے کہا کہ ازابیل ڈیمونگو اور ان تمام خواتین کے لیے میرا احترام ہے جنہوں نے بات کی۔ میں سمجھتی ہوں کہ ہم بولتے نہیں ہیں لیکن ہمیں اب بولنا ہے۔ میں ایک عرب ملک سے آئی ہوں۔ میں صرف اتنا جانتی ہوں کہ وہ دنیا کے کوچز میں سے ایک تھے۔ میں واقعی ہیرو بننا چاہتی تھی اور مجھے اس کی ضرورت تھی۔

فرانس میں کاماری کے مقدمے کی سماعت کے وقت صفر نے تصدیق کی کہ وہ حقیقی ذہنی دباؤ کا شکار تھیں۔ انہوں نے کہا کہ میرے والدین اور رشتہ دار مجھ سے کہتے تھے خوش قسمتی سےآپ مضبوط ہیں۔ آپ جب یہ بار بار سنتے ہیں تو آپ پر کیا احساس ہوتا ہے یہ بیان نہیں کیا جا سکتا۔ اس وقت مجھے جو شرمندگی ہوتی تھی وہ بھی ناقابل بیان ہے۔ میں محسوس کر رہی تھی کہ میں بزدل اور کمزور ہوں۔ یہ سارا عرصہ ایک آزمائش میں گزارا۔ میرے ذہن میں بڑے تاریک خیالات آ رہے تھے۔

ڈبلیو ٹی اے رینکنگ میں سرفہرست 100 کھلاڑیوں کی فہرست میں شامل ہونے والی پہلی عرب خاتون صفر نے پیر 28 اگست 2023 کو اخبار "L'Equipe" کو دیے گئے ایک انٹرویو میں انکشاف کیا کہ تقریباً 30 سال قبل ان کے ساتھ کوچ ریگس کی جانب سے کئی بار زیادتی کی گئی۔ ریگس اس وقت 81 سال کے ہیں۔

سابق ٹینس کھلاڑی نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ جب میں ساڑھے 12 سال کی تھی۔ اس وقت میرے کوچ ریگیس ڈی کیمریٹ نے مجھ پر جنسی حملہ کیا تھا اور کوئی بھی میری کہانی نہیں جانتا تھا۔ مجھے اس میں کافی وقت لگا کہ اپنے آپ کو آزاد کرو۔ یہ میرے لیے بہت بڑا صدمہ تھا۔

سلیمہ صفر نے مزید کہا کہ میں نے اپنی ساری زندگی سوچا کہ میں کمزور، بزدل اور بیکار ہوں۔ یہاں تک کہ مجھے آج 46 سال کی عمر میں احساس ہوا کہ میں بول سکتی ہوں۔

تونس کی کھلاڑی نے مزید کہا کہ میں ایک عرب ملک سے آئی تھی اور صرف اتنا جانتی تھی کہ ریگیس ڈی کیمریٹ دنیا کے بہترین کوچز میں سے ایک ہیں۔ وہ فرانس میں ٹینس کے 'دیوتا' تھے۔ میں واقعی ایک چیمپئن بننا چاہتی تھی۔ لیکن میں ایک ہی چیز سے گزر رہی تھی۔ ہر مرتبہ مجھے مفلوج ہونا پڑتا تھا۔ یہ تقریبا تین سال تک چلتا رہا۔

سلیمہ صفر نے کہا کہ وہ مجرم ہے اور ہمیشہ مجرم رہے گا۔ اس نے جرم کیا ہے۔

یاد رہے جس کوچ ریجس ڈی کیمریٹ پر سلیمہ صفر نے جنسی زیادتی کا الزام لگایا ہے وہ 2014 میں دو نابالغ کھلاڑیوں کے خلاف عصمت دری کے مقدمات میں 10 سال قید کی سزا سنائے جانے کے بعد اس وقت جیل میں ہیں۔

خیال رہے تونس کی سابق پیشہ ور ٹینس کھلاڑی سلیمہ صفر 8 جولائی 1977 کو سیدی بو سید میں پیدا ہوئیں۔ انہوں نے 1999 میں ایک پیشہ ور کے طور پر اپنے کیریئر کا آغاز کیا اور 2011 میں کھیلنے سے ریٹائر ہو گئیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں