انخلا کے دو سال بعد بھی افغانستان میں امریکی کردار ختم نہیں ہوا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

پندرہ اگست 2021 کو امریکی افواج کے انخلا کے بعد سے طالبان نے افغانستان کا کنٹرول سنبھال رکھا ہے۔ ان دوسالوں کے دوران طالبان کی حکومت نے لوگوں پر مختلف پابندیاں عائد کر دی ہیں اور ملک کے حالات خراب ہو چکے ہیں۔

دو سال کی حکمرانی کے بعد کچھ بھی نہیں بدلا بلکہ صورت حال مزید خراب ہوئی ہے۔ خاص طور پر طالبان کی جانب سے افغان لڑکیوں کو سکول جانے سے روکا گیا، خواتین کو مقامی ملازمتوں اور غیر سرکاری تنظیموں میں کام کرنے سے روکا گیا اور میڈیا اور دیگر شعبوں کو دبایا گیا ہے۔

ذمہ دار کون ہے؟

ان پیش رفتوں کی روشنی میں امریکن ولسن سنٹر نے اپنے تجزیے میں یہ نتیجہ اخذ کیا کہ افغانستان کا منظر تاریک اور مایوس کن ہے ۔ دو سال قبل طالبان تحریک کے زیر کنٹرول دارالحکومت کابل سے امریکہ کا انخلا ڈرامائی انداز سے ہوا اور اس دوران ایئرپورٹ پر بڑی افراتفری مچ گئی تھی۔ مرکز نے کہا اس بات پر غور کیا جائے کہ واشنگٹن کو کیا کرنا چاہیے تو یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ آج کے حالات کی بہت زیادہ ذمہ داری امریکہ پر عائد ہوتی ہے۔

مرکز کے مطابق امریکہ کو اب اپنے شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہیے تاکہ دوسرے ملکوں پر دباؤ برقرار رکھا جائے کہ وہ طالبان کی حکومت کو تسلیم نہ کریں اور انسانی حقوق، خاص طور پر خواتین سے متعلق اپنی پالیسیوں سے پیچھے ہٹے بغیر افغان سول سوسائٹی کو مدد فراہم کریں۔

مرکز نے مزید کہا کہ امریکی انتظامیہ کو ضروری انسانی امداد کی فراہمی کو برقرار رکھنے کے لیے کام کرنا چاہیے اور اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی تنظیموں کے ذریعے ضرورت مندوں تک اس کی رسائی کو یقینی بنانا چاہیے۔

امریکہ کو دوسرے ملکوں کے ساتھ مل کر افغانستان سے نکلنے والی دہشت گردی اور پرتشدد کارروائیوں کے کسی بھی ثبوت پر کڑی نظر رکھنی چاہیے اور بیرون ملک افغان کمیونٹیز اور افغان سول سوسائٹی گروپس کے ساتھ باقاعدہ بات چیت جاری رکھنا چاہیے۔

ولسن سنٹر نے زور دیا کہ بائیڈن انتظامیہ اور کانگریس کو اصلاحات متعارف کرانے اور وسائل فراہم کرنے پر اتفاق کرنے کی اشد ضرورت ہے تاکہ امریکہ کے ساتھ کام کرنے والے افغانوں کے لیے امیگریشن ویزوں کے اجرا کو بہتر اور تیز کیا جا سکے۔

افغانستان میں اقوام متحدہ کے مشن (یو این اے ایم اے) نے گزشتہ ہفتے اعلان کیا تھا کہ پرانے حریفوں کے لیے "عام معافی" جاری کرنے کے باوجود طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے ملک میں 200 سے زیادہ فوجی ، قانون نافذ کرنے والے اور سابق سرکاری اہلکار مارے جا چکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں