ترکیہ کا ایف 16 خرید کرنے کا معاملہ سویڈن کی نیٹو رُکنیت سے الگ رکھا جائے:ایردوآن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے کہا ہے کہ امریکی صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ ترکیہ کو ایف 16 لڑاکا طیاروں کی فروخت کو سویڈن کی نیٹو رکنیت کی درخواست کی منظوری سے مشروط کر رہی ہے اور یہ معاملہ ہمارے لیے پریشان کن ہے۔

بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں جی 20 سربراہ اجلاس کے بعد پریس کانفرنس میں صدرایردوآن نے کہا کہ انھوں نے صدر جو بائیڈن کے ساتھ ملاقات کی ہے اور ان سے ایف 16 طیاروں کی ترکیہ کو منتقلی پر تبادلہ خیال کیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’’بائیڈن نے نیٹو میں شمولیت کے لیے سویڈن کی درخواست کی توثیق اور ترکیہ کو ایف 16 طیاروں کی ترسیل کے درمیان تعلق کو جوڑا ہے مگر یہ نقطہ نظر ہمیں شدید پریشان کرتا ہے‘‘۔

ترکیہ نیٹو کی رُکنیت کے حصول میں سویڈن کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ تھا،اس نے اکتوبر 2021 میں لاک ہیڈ مارٹن کارپوریشن کے ساختہ 20 ارب ڈالر مالیت کے ایف-16 طیارے اور اپنے موجودہ جنگی طیاروں کے لیے قریباً 80 جدید کاری کٹس خریدنے کا مطالبہ کیا تھا۔

کئی ماہ کے اعتراضات کے بعد ایردوآن نے جولائی میں نیٹو سربراہ اجلاس میں سویڈن کی رکنیت کی درخواست توثیق کے لیے ترک پارلیمان کو بھیجنے پر اتفاق کیا تھا۔

اس کے ایک روز بعد امریکا کے قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان نے کہا تھا کہ واشنگٹن کانگریس کی مشاورت سے ترکیہ کو ایف 16 طیاروں کی منتقلی کے عمل کو آگے بڑھائے گا۔تاہم ایف 16 طیاروں کے معاہدے اور سویڈن کے لیے ترک پارلیمان کی جانب سے گرین سگنل دونوں کا وقت ابھی تک واضح نہیں ہے۔

ایردوآن نے صحافیوں سے گفتگو میں واضح کیا کہ ’’ اگر آپ کہتے ہیں کہ کانگریس (ترکیہ کو ایف 16 طیاروں کی فروخت کے بارے میں) فیصلہ کرے گی تو ہمارے پاس ترکیہ میں بھی کانگریس ہے۔'میرے لیے اکیلے 'ہاں' کہنا (سویڈن کی نیٹو کی رکنیت کی کوشش کے لیے) اس وقت تک ممکن نہیں جب تک کہ اس طرح کے فیصلے کو (ہماری) پارلیمان سے منظوری نہ مل جائے‘‘۔

انقرہ نے سویڈن پر یہ الزام عاید کیا ہے کہ وہ ترک ریاست کے مخالف عسکریت پسندوں کو پناہ دے رہا ہے۔ان میں بنیادی طور پر کالعدم کردستان ورکرز پارٹی (پی کے کے) کے ارکان شامل ہیں جو سویڈن میں پناہ گزین ہیں۔پی کے کے کو ترکیہ، یورپی یونین اور امریکا دہشت گرد تنظیم سمجھتے ہیں۔

ایردوآن نے یہ بھی کہا کہ سویڈن کو ’’اپنے وعدوں کو پورا کرنا چاہیے‘‘اور مزید اقدامات کرنے چاہییں - جس میں پی کے کے کے مبیّنہ عسکریت پسندوں کی حوالگی اور سویڈن میں اس تنظیم کے حامیوں کی ریلیوں کو روکنا شامل ہے۔’’اس کے بعد ہی ترکیہ سویڈن کی نیٹو رکنیت کی منظوری دے گا‘‘۔

ترکیہ کے خدشات کو دور کرنے کے لیے اسٹاک ہوم نے جون میں ایک قانون منظور کیا تھا جس کے تحت کسی دہشت گرد گروپ کا رکن ہونے یا کالعدم گروہوں کو لاجسٹک سہولت اور مالی مدد مہیا کرنے کا فعل غیر قانونی قرار دیا گیا تھا۔

اسٹاک ہوم نے حال ہی میں اس امید کا اظہار کیا تھا کہ ترک قانون ساز اکتوبر میں نیٹو کے دوبارہ اجلاس سے قبلکی اس نیٹو کی رُکنیت کی توثیق کردیں گے، جیسا کہ جولائی میں نیٹو سربراہ اجلاس میں اتفاق کیا گیا تھا۔

روس کے یوکرین پر حملے کے بعد سویڈن اور فن لینڈ نے گذشتہ سال نیٹو میں شمولیت کے لیے درخواست دی تھی۔اگرچہ فن لینڈ کی رکنیت پر اپریل میں مہر تصدیق ثبت ہوگئی تھی ، لیکن سویڈن کی درخواست اب بھی ترکیہ اور ہنگری کے ہاتھوں رکی ہوئی ہے۔ترک وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ انقرہ اور بڈاپیسٹ اس معاملے میں قریبی تعاون سے کام کر رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں