مراکش میں زلزلے کی تباہی کا پانچواں دن، ہلاکتوں کی تعداد تین ہزار کے قریب

ریڈ کراس کی فوری طور پر 100 ملین ڈالر امداد کی اپیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

مراکش میں تباہ کن زلزلے کے پانچویں دن مرنے والوں کی تعداد تقریباً 2901 ہو گئی ہے اور 5500 سے زائد زخمی ہیں، جب کہ امدادی کارکنان اب بھی زلزلہ سے متاثرہ دور دراز پہاڑی علاقوں تک پہنچنے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔

بہت سے مقامات تک اب بھی امدادی کارکن نہیں پہنچ پائے ہیں اور ملبے تلے افراد کو نکالنے میں دشواری کا سامنا ہے۔

زندہ بچ جانے والوں کی تلاش کی امیدیں دم توڑ رہی ہیں۔ دوسری طرف بین الاقوامی ریڈ کراس نے فوری امداد کے لیے 100 ملین ڈالر سے زیادہ رقم کی امداد کی اپیل کی ہے۔

زندہ بچ جانے والوں کی تلاشی جاری ہے
زندہ بچ جانے والوں کی تلاشی جاری ہے

مراکش کے ریسکیو اہلکار، غیر ملکی ٹیموں اور رضاکاروں کے تعاون سے ملبہ ہٹانے کی کارروائیوں کو تیز کرنے اور گھروں سے محروم ہونے والے سینکڑوں خاندانوں کو پناہ دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ بہت سے زلزلہ زدگان کو ان عارضی پناہ گاہوں میں مشکل حالات کا سامنا ہے جہاں وہ چوتھی رات باہر گزارنے کے بعد پناہ لے رہے ہیں۔

جنیوا میں منگل کے روز بین الاقوامی ریڈ کراس نے مراکش کی فوری ضروریات فراہم کرنے کے لیے 100 ملین ڈالر سے زیادہ جمع کرنے کی اپیل جاری کی۔

ریڈ کراس کی ڈیزاسٹر، کلائمیٹ اینڈ کرائسس کی ڈائریکٹر کیرولین ہولٹ کے مطابق امید ہے کہ یہ رقم اس وقت انتہائی ناگزیر ضروریات کو پورا کرنے اور متاثرین کی فوری طور پر بحالی میں مدد دے گی۔ اس سے بے گھر ہونے والوں کو صحت، پانی، صفائی، حفظان صحت، پناہ گاہوں میں امدادی سامان اور بنیادی ضروریات کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا۔

زلزلے سے ہونے والی تباہی
زلزلے سے ہونے والی تباہی

دوسری طرف اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال ’یونیسیف‘ نے منگل کے روز اطلاع دی کہ "زلزلے سے تقریباً ایک لاکھ بچے متاثر ہوئے۔

لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے زلزلے کے مرکز کے قریب ترین دیہاتوں تک رسائی اب بھی مشکل ہے۔ مراکش کی فوج نے دور دراز علاقوں میں زخمیوں کے علاج کے لیے فیلڈ ہسپتال قائم کیے ہیں۔ زلزلے کے بعد سے کئی گاؤں کے باشندے بجلی کی بندش اورمواصلات سہولیات کے تعطل کا سامنا کررہے ہیں۔

سرکاری ٹیلی ویژن کے مطابق زلزلے سے مرنے والوں کی تعداد 2,901 تک پہنچ گئی اور 5,530 سے زائد زخمی ہوئے، تاہم ان تعداد میں اضافے کا خدشہ ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں