اسپین میں ایک خاتون فٹ بالرکو فٹ بال فیڈریشن کے صدر کی جانب سےبوسہ دینے کے اسکینڈل کے بعد جنسی ہراسانی کے ایک تازہ واقعے نے ملک بھر میں غم وغصے کی لہر دوڑا دی ہے۔
تازہ واقعے میں ایک خاتون رپورٹر کوایک شخص نے چھونے کی کوشش کی جس پر اسے گرفتار کرلیا گیا ہے۔
یہ واقعہ گذشتہ منگل کو پیش آیا جب کیوٹرو چینل کی رپورٹر عیسیٰ بالادو میڈرڈ میں ایک ڈکیتی کی کوریج کر رہی تھی۔
آن ایئر ہراساں
سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی ایک ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ملزم بالادو کے پیچھے آیا اور اس کے جسم پر ہاتھ رکھ کر اس سے اس ٹی وی چینل کے بارے میں پوچھا جس کے لیے وہ کام کرتی تھی۔
بالادو جو ابھی بھی آن ایئر تھی نے اس شخص کو ایک طرف دھکیلنے اور اپنی رپورٹ جاری رکھنے کی کوشش کی۔ دوسری طرف اسٹوڈیو میں موجود نیوزکاسٹرناچو آباد نے بالادو کو روک کر پوچھا کہ کیمرے میں دکھائی دینے والا یہ شخص کون ہے؟
🚨🚨🚨 AGRESIÓN SEXUAL EN DIRECTO a nuestra reportera @IsaBalado: "¿De verdad me tienes que tocar el culo?"
— En boca de todos (@EnBocaDe_Todos) September 12, 2023
Y tremenda reacción de @Nacho_Abad: "¡Pásame a este tío tonto!" pic.twitter.com/JOcbTLSFwI
صحافیہ کی طرف سے ملزم کو وہاں سے ہٹانے کی بار بار کی کوشش ناکام ہونے کے بعد کیمرہ مین نے کیمرہ اس شخص کی طرف موڑ دیا۔
ملزم نے اس کے جسم کو چھونے سے انکار کیا تاہم کہا کہ وہ وہاں سے جا رہا تھا لیکن اس کے بال اس کے ہاتھ میں پھنس گئے۔
اس شخص کو لائیو ٹیلی ویژن پر ایک خاتون رپورٹر کے ساتھ جنسی طور پر ہراساں کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔ پولیس نے X پلیٹ فارم پرویڈیو پوسٹ کی ہے جس میں اس شخص کوخاتون رپورٹر کو ہراساں کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔
ہراسانی کا شکار ہونے والی رپورٹر کے ساتھ عوامی حلقوں کی طرف سے یکجہتی کا اظہار کیا جا رہا ہے جب کہ ٹی وی چینل کے مالک نے بھی اس کے ساتھ مکمل ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔