ایران کی قید سے رہائی پانے والی پانچ امریکی شہری امریکا پہنچ گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

ایران کی قید سے رہائی پانے والے پانچ امریکی شہری قطر سے منگل کے روز امریکا پہنچ گئے ہیں۔ سی این این کے مطابق ان پانچ امریکیوں کو لے کر طیارہ امریکی سرزمین پر اُتر گیاہے لیکن اس نے رپورٹ میں مزید تفصیل فراہم نہیں کی ہے۔

ان امریکی شہریوں کوسوموار کے روز امریکا میں قید پانچ ایرانیوں کی رہائی اورایران کے چھے ارب ڈالرکے فنڈز غیر منجمد کرنے کے بدلے میں رہا گیا تھا۔امریکا اور ایران کے درمیان قطر کی ثالثی میں کئی ماہ کے مذاکرات کے بعد اس سلسلے میں معاہدہ طے پایا تھا اور جنوبی کوریا میں ایران کے روکے گئے فنڈز سوئٹزرلینڈ کے راستے دوحہ کے بینکوں میں منتقل کیے گئے ہیں۔

ان رقوم کی منتقلی کی تصدیق کے بعد پانچ امریکی قیدیوں اور ان کے دو رشتے داروں نے تہران سے قطری طیارے میں اڑان بھری تھی۔اسی وقت پانچ ایرانی قیدیوں میں سے دو وطن واپسی کے لیے دوحہ پہنچے تھے جبکہ تین ایرانیوں نے امریکا سے آبائی وطن نہ لوٹنے کا فیصلہ کیا ہے۔

رہا ہونے والے پانچ امریکیوں میں ایران اور امریکا کی دُہری شہریت کے حامل 51 سالہ سیامک نمازی، 59 سالہ عماد شرقی اور 67 سالہ ماہر ماحولیات مراد طاہباز بھی شامل ہیں۔ان کے پاس برطانوی شہریت بھی ہے۔ان کے علاوہ رہائی پانے والے دو اور امریکیوں کی عوامی طور پر شناخت نہیں کی گئی ہے۔

امریکی صدر جو بائیڈن نے پیر کے روز ایک بیان میں قیدیوں کی وطن واپسی کا خیر مقدم کیا لیکن ان کی انتظامیہ نے ایران کے خلاف نئی امریکی پابندیوں کا بھی اعلان کیا۔انھوں نے کہا کہ ہم خطے میں ایران کے اشتعال انگیز اقدامات کے جواب میں قدغنیں عاید کرتے رہیں گے۔

ایرانی صدر ابراہیم رئیسی نے، جو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے نیویارک میں ہیں، قیدیوں کے تبادلے کو انسانی ہمدردی پرمبنی اقدام قرار دیا ہے۔

واشنگٹن انسٹی ٹیوٹ برائے مشرقِ قریب پالیسی کے ہنری روم کا کہنا ہے کہ قیدیوں کے تبادلے سے ممکنہ طور پر اس موسم خزاں میں ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے اضافی سفارت کاری کی راہ ہموار ہوگی۔تاہم ایران کی جوہری سرگرمیوں کے حوالے سے کسی معاہدے تک پہنچنے کے امکانات بہت کم ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں