امریکا سنجیدگی دکھائے تو جوہری معاہدے پر مذاکرات دوبارہ شروع ہوسکتے ہیں: ایران

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایرانی وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان نے کہا ہے کہ فریقین کے لیے مشترکہ جامع منصوبہ (ایٹمی معاہدے) کی طرف واپسی کے لیے کسی معاہدے تک پہنچنا خارج از امکان نہیں ہے۔ اگر امریکا اپنی دوغلی پالیسی ترک کر دے اور حقیقی عزم کا اظہار کرے جوہری معاہدے کی بحالی ممکن ہے۔

ہفتے کے روز اسلامی جمہوریہ ایران کی نیوز ایجنسی (ارنا) نے ایک امریکی تحقیقی مرکز نے ایرانی وزیر خارجہ کے حوالے سے کہا کہ "ہم نے ذکر کیا ہے کہ اگر امریکی فریق اپنا دوغلا پن ترک کرے اور حقیقی ارادے اور ٹھوس اقدامات کا مظاہرہ کرے، تو جوہری پروگرام کی واپسی اور معاہدے تک پہنچا جا سکتا ہے۔"

ایران اور امریکا کے درمیان جوہری پرگرام پر آسٹریا کے دارالحکومت ویانا میں مذاکرات کے کئی دور ہوئے۔ ان کا مقصد تہران اور عالمی طاقتوں کے درمیان 2015ء میں طے پانے والے جوہری معاہدے کو بحال کرنا تھا جس سے 2018ء میں امریکا اس سے دستبردار ہو گیا تھا۔

کل جمعہ کو امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے کہا کہ ایران کا اقوام متحدہ کے بعض جوہری معائنہ کاروں کو روکنے کا فیصلہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ وہ اپنے جوہری پروگرام میں ذمہ دار فریق بننے میں دلچسپی نہیں رکھتا۔

ان تبصروں سے ظاہر ہوتا ہے کہ واشنگٹن کو تہران کی جانب سے اپنے جوہری پروگرام کو محدود کرنے کی سنجیدگی سے خواہش پر شک ہے۔

بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل نے ہفتے کے روز ایران میں تعینات متعدد انسپکٹرز کو نکالنے کے ایرانی فیصلے کی مذمت کی، جس سے تہران کی جوہری سرگرمیوں کی نگرانی میں رکاوٹ پیدا ہو رہی ہے۔

دوسری طرف ایران نے کہا کہ وہ امریکا اور اس کے تین یورپی اتحادیوں کی طرف سے تہران کے مطالبے کا جواب دے رہا ہے کہ وہ فوری طور پر ایجنسی کے ساتھ غیر اعلانیہ مقامات پر پائے جانے والے یورینیم کے نشانات کی تشریح سمیت دیگر امور پر تعاون کرے۔

بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی 2015 کے ایرانی جوہری معاہدے کے ساتھ ایران کی تعمیل کی توثیق کرنے کی ذمہ دار تھی، جس کے تحت تہران نے امریکا، یورپی یونین اور اقوام متحدہ کی طرف سے عائد پابندیوں سے نجات کے بدلے اپنے جوہری پروگرام کو محدود کر دیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں