ایرانی مسلح افواج کے چیف آف اسٹاف محمد باقری نے کہا ہے کہ کردستان کے علاقے اور باقی عراق میں ایرانی کرد مسلح اپوزیشن کی موجودگی برداشت نہیں کی جائےگی۔
العالم ٹی وی کے مطابق باقری نے کہا کہ مسلح دہشت گرد علیحدگی پسند قوتوں کو مکمل طور پر غیر مسلح اور پورے عراق سے نکال باہر کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ صدر ابراہیم رئیسی نے ہم سے صبر کی درخواست کی اور چند دنوں کی ڈیڈ لائن دی اور ہم انتظار کریں گے۔"
ایران نے عراق اور عراقی کردستان کی علاقائی حکومت کے لیے خطے میں سرگرم تہران مخالف گروہوں کے خلاف کارروائی کے لیے 19 ستمبر کی آخری تاریخ مقرر کی ہے۔
عراق اور ایران کے درمیان مشترکہ سکیورٹی معاہدے پر عمل درآمد کی سپریم کمیٹی نے منگل کے روز دونوں ممالک کی سرحدوں کے قریب ایرانی اپوزیشن گروپوں کے ہیڈ کوارٹر کو مستقل طور پر خالی کرنے کا اعلان کیا تھا۔
عراقی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ بغداد نے عراقی کردستان کی علاقائی حکومت کے ساتھ مل کر ایران کے ساتھ مشترکہ سرحد کو محفوظ بنانے کے لیے زمینی اقدامات پر عمل درآمد شروع کر دیا ہے۔
-
ایران حجاب کے "توہین آمیز" قانون کو منسوخ کرے: اقوام متحدہ
اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ میں ڈریس کوڈ کی پابندی نہ کرنے والی ایرانی خواتین پر قید ...
بين الاقوامى -
ایران کی وزارتِ دفاع کی فیکٹری میں آتش زدگی: رپورٹ
ایران کے سرکاری ٹی وی نے جمعہ کو رپورٹ کیا کہ دارالحکومت کے شمال میں ایرانی وزارتِ ...
مشرق وسطی -
ایران کی قدس فورس کے کمانڈر کی شام میں مشترکہ مشقوں میں شرکت
ایرانی میڈیا کے مطابق پاسداران انقلاب کے بیرون ملک آپریشنز کے ذمہ دار ونگ قدس فورس ...
مشرق وسطی