برطانوی اخبار ' ٹیلی گراف ' نے بی بی سی کو متؑعصب قرار دے دیا'

ناقدین کے مطابق بی بی سی کی رپورٹس میں تعصب ' الارمنگ ' ہے حیران کن نہیں۔

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

برطانیہ کے سرکاری وسائل سے چلنے والے ممتاز نشریاتی ادارے بی بی سی فوری طور پر اس امر کی تحقیقات شروع کر دی ہیں کہ آیا ادارے کے سٹاف نے اسرائیل اور حماس کی جنگ کی متعصبانہ رپورٹنگ کی ہے ؟

اس بارے میں ناقدین کی آراء اس وقت سامنے آنے لگیں جب برطانیہ کے ہی اخبار ' ٹیلی گراف نے اپنی رپورٹ میں بی بی سی کی عربی زبان میں رپورٹس کی تیاری کے ذمہ دار سٹاف کو یہ الزام دیا ۔

ناقدین نے یہاں تک کہہ دیا' ریکارڈ کو دیکھا جائے تو غزہ جنگ میں اضافے کے بعد دکھایا گیا تعصب ' خطرناک' تو ہے مگر حیران کن نہیں ہے۔ '

بی بی سی کی ایک سابق ملازمہ نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ ہدایات تھیں کہ انتہا پسندی کو نظر انداز کرنا ہے اور مخصوص ملکوں کو نشانہ بنانا ہے۔' تاہم ناقدین جن کا تعلق برطانوی عوام سے ہے اور بی بی سی ایک پبلک فنڈڈ ادارہ ہے نے اس صورت حال پر بی بی سی کے بارے میں حیرانی کا اظہار نہیں کیا ہے۔

' ٹیلیگراف ' کی رپورٹ کا حاصل بھی یہی ہے۔ جسے اس طرح بیان کیا گیا ہے کہ جنگ سے متعلق بی بی سی عربی کی رپورٹس ' الارمنگ ہیں حیران کرنے والی نہیں۔'سابق بی بی سی ملازم کے مطابق 'بی بی سی انتظامیہ حتیٰ کہ برطانیہ کی حکومت بھی اس بارے میں متعدد بار خبردار کر چکی ہے کہ بی بی سی عربی میں کام کرنے والے سٹاف میں ایک بڑی تعداد اپنا خفیہ ایجنڈا رکھتی ہے۔

بی بی سی عربی کے تنازع پر ڈیلی ٹیلی گراف کی رپورٹنگ۔ (اسکرین شاٹ)
بی بی سی عربی کے تنازع پر ڈیلی ٹیلی گراف کی رپورٹنگ۔ (اسکرین شاٹ)

سابق ملازمہ نے اپنی ملازمت سے متعلق کچھ تنازعات کے سبب اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا ' اس کارخانے (ورک پلیس ) کا کلچر ایک قوم کے افراد کے غلبے کی وجہ سے ہے۔ اس میں سیاسی اسلام پسندوں اور اخوان کے خیالات کے حق میں ایک حمایت دکھائی جاتی ہے۔ '

یہی کلچر اس سابق ملازمہ خاتون کے بقول اس کی ملازمت سے بالآخر علیحدگی کا باعث بنا۔ سابق ملازمہ کے مطابق سالہا سال سے بعض عرب حکومتوں کو نشانہ بنانے کا ایک نظام ہے۔ جبکہ انتہا پسندانہ خیالات اور اقدامات کو اظہار رائے کا نام دیا جاتا ہے۔ '

اس سابق ملازمہ نے کہا جو ہم کرتے رہے یہ صحافت نہیں تھی ، یہ ایکٹوزم' تھا۔' بی بی سی کی سابق ملازمہ نے کہا ' جو اقتدار میں ہوں انہیں چیلنج کرنا ایک اچھے صحافی کا کام ہے اور انتہا پسندانہ خیالات کی آواز بننا یا انہیں ایک پلیٹ فارم دینا دوسری بات ہے۔'

واضح رہے ' ٹیلی گراف کی رپورٹ 21 اکتوبر کو شائع ہوئی ۔ جس نے بی بی سی میں پائے جانے والے منظم تعصب کو واضح کیا۔ رپورٹ نے یہ تعصب بی بی سی کی رپورٹس کے حوالے سے بھی واضح کیا ور اس سے وابستہ صحافیوں کی سوشل میڈیا پر سرگرمیوں کے حوالے سے بھی۔

واضح رہے دنیا کے بڑے اور معروف نشریاتی اداروں پر تعصب یا جانبداری اور خبروں کو 'ٹوئسٹ ' کرنے کا الزام عام طور پر سابق نوآبادیاتی ریاستوں میں لگتا رہتا ہے۔ ان سے اس طرح کی شکایات پر ان کے ناظرین و قارئین عام طور پر یہ تاثربھی بنا ئے رکھتے ہیں ۔ لیکن یہ پہلا موقع ہے کہ بی بی سی پر خود برطانیہ کے ایک بڑے اخبار نے تعصب برتنے کا الزام لگا دیا ہے۔

محض چند روز قبل بی بی سی کی ایک بھارتی صحافی خاتون پر پروگرام کے دوران ہی فلسطینی پرچم کے رنگ کی ساڑھی پہننے کے باعث ایک اسرائیلی رہنما خوب برسے تھے۔ اس پروگرام میں پیدا ہونے والی بدمزگی کے علاوہ ٹیلی گراف کی یہ رپورٹ ایک غیر معمولی واقعہ ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں