کوالالمپور میں فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی، بڑا اجتماع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ملائیشیا کے دارالحکومت کوالالمپور میں فلسطینی عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے ہزاروں مظاہرین ایک بڑی ریلی کی صورت میں جمع ہو گئے۔ جب سے اسرائیل کی غزہ پر بمباری جاری ہے ملائیشیا میں اس کے خلاف احتجاج جاری ہے مگر منگل کے روز فلسطینیوں کے حق میں ملائیشین عوام کا یہ سب سے بڑا اجتماع تھا۔

مظاہرین روایتی فلسطینی سکارف اور رومال اوڑھے ہوئے تھے اور ہاتھوں میں فلسطینی پرچم اٹھا رکھے تھے۔ 'مظاہرین فلسطین کو بچاو ' ، 'فلسطینیوں کی نسل کشی بند کرو' کے علاوہ 'دریا سے سمندر تک فلسطین آزاد ہو گا' کے نعرے لگا رہے تھے۔

اظہار یکجہتی کے لیے اس بڑی ریلی کو ' ملائیشیا فلسطین کے ساتھ ہے' کا نام دیا گیا تھا۔ اس ریلی کا انعقاد دارالحکومت کے جنوب میں 'ایگزیاٹا ارینا سٹیڈیم ' میں کیا گیا ۔ جہاں 16000 نشستوں کا اہتمام تھا۔ پنڈال ہر طرف سے بھرا ہوا تھا، جب وزیر اعظم انور ابراہیم نے ریلی کے شرکاء سے خطاب کیا۔

وزیر اعظم انور ابراہیم نے خطاب کرتے ہوئے کہا ' ہم ملائیشیا کے لوگ کل بھی فلسطینیوں کے ساتھ تھے، آج بھی ساتھ ہیں اور آنے والے کل کو بھی فلسطینیوں کے ساتھ ہوں گے۔ '

'ملائیشیا کے لوگ اس وقت بھی فلسطینیوں کے ساتھ تھے جب یاسر عرفات ایک آزاد فلسطین کے لیے جدوجہد کر رہے تھے اور آج بھی فلسطینیوں کے ساتھ ہیں۔ ہم کسی خوف کے بغیر فلسطینیوں کا ساتھ دیتے رہیں گے۔'

وزیر اعظم ملائیشیا نے کہا ' یہ ظلم کی انتہا ہے لوگوں کے قتل عام کی کھلی چھٹی دے دی گئی ہے۔ بچے مر رہے ہیں۔ ہسپتالوں پر بمباری ہو رہی ہے، سکول تباہ کیے جارہے ہیں۔ '

'ہم اس کے علاوہ کچھ مطالبہ نہیں کرتے کہ فلسطین کے عربوں کو انسان سمجھا جائے ۔ ان کےساتھ انسانوں والا سلوک کیا جائے۔ قتل عام روکا جائے۔ انہیں کھانا دیا جائے۔ ادویات دی جائیں۔ فلسطینی بچوں کو جینے کا حق دیا جائے۔ کیا یہ مطالبہ زیادہ ہے ؟ 'وزیر اعظم نے زور دے کر کہا ۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں