یورپی یونین کے رہنماؤں کی غزہ میں 'انسانی بنیاد پر تؤقف' کے مطالبے پر نگاہیں مرکوز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

یورپی یونین کے رہنما جمعرات کو حماس-اسرائیل جنگ میں "انسانی بنیادوں پر تؤقف" کے مطالبے پر بحث کریں گے کیونکہ یہ بلاک یوکرین پر روس کے حملے کے ساتھ ساتھ اپنے کنارے پر ایک اور تنازع سے دوچار ہے۔

یورپی یونین اس بحران کے تناظر میں اتحاد اور اثر و رسوخ دونوں کے لیے جدوجہد کر رہی ہے جس نے 7 اکتوبر کو حماس کے اسرائیل پر اچانک حملے کے بعد سے شرقِ اوسط کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔

روس کے خلاف جنگ میں یوکرین کی حمایت جاری رکھنے کی مغربی ممالک کی صلاحیت کے بارے میں شکوک بڑھ رہے ہیں اور اسی وقت کے دوران خونریزی میں اضافے نے یورپ کی توجہ اس طرف مبذول کرائی ہے۔

27 ملکی بلاک کو طویل عرصے سے آئرلینڈ اور اسپین جیسے فلسطینی حمایتیوں اور اسرائیل کے کٹر حمایتیوں بشمول جرمنی اور آسٹریا کے درمیان تقسیم کا سامنا ہے۔

حماس کے حملے کی شدید مذمت کی گئی ہے جس کے بارے میں اسرائیل نے کہا ہے کہ اس میں کم از کم 1,400 افراد ہلاک اور 200 سے زائد کو یرغمال بنایا گیا تھا۔

لیکن غزہ پر اسرائیل کی انتقامی بمباری کو روکنے پر زور دینے پر کم اتفاقِ رائے ہوا ہے جس میں حماس کے زیرِانتظام وزارتِ صحت کے مطابق 6,500 سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

کئی دنوں کی بات چیت کے بعد سربراہی اجلاس کے لیے ایک مسودہ بیان میں "انسانی بنیادوں پر تؤقف سمیت تمام ضروری اقدامات کے ذریعے ضرورت مندوں تک مسلسل، تیز، محفوظ اور بلارکاوٹ انسانی رسائی اور امداد پہنچانے" کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

یہ بیان -- جو برسلز میں رہنماؤں کی ملاقات کے وقت تبدیل ہو سکتا ہے -- اقوامِ متحدہ کی طرف سے "جنگ بندی" کے مطالبات سے کم ہے۔

جرمنی چونکہ اسرائیل کو پابند کر دینے والی زیادہ حتمی بندش پر زور دینے سے ہوشیار ہے تو اس نے ایک سے زائد مرتبہ انسانی ہمدردی کی بنا پر جنگ میں "تؤقف" کے مطالبات پر سوال اٹھایا ہے۔

"حروف، وقفہ اور زبان اہم ہے اور اس طرح آپ معاہدے تلاش کرتے ہیں۔" یورپی یونین کے ایک سینئر اہلکار نے کہا۔

لیکن یوروپی یونین کے کچھ ممالک کے سفارت کاروں نے متنبہ کیا ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ کے دوران صحیح الفاظ تلاش کرنے میں تاخیر بلاک کے عالمی مؤقف کے لیے نقصان دہ ہے اور جنگ کی صورتِ حال میں پیشرفت کے پیشِ نظر یہ ناکام ہو رہا ہے۔

شرقِ اوسط میں تشدد کے آغاز سے یہ خدشہ پیدا ہو گیا ہے کہ یوکرین کے خلاف روس کی 20 ماہ کی جنگ سے مغرب کی توجہ ہٹ سکتی ہے۔

تازہ بحران ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی کانگریس میں ہنگامہ آرائی پہلے ہی واشنگٹن کی فوجی امداد کی پائیداری اور تسلسل پر سوالات اٹھا چکی ہے۔

جرمن چانسلر اولاف شولز نے منگل کو اس عزم کا اظہار کیا کہ "یقیناً 7 اکتوبر کی صبح کے خوفناک اوقات سے ہم اسرائیل اور شرقِ اوسط پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں لیکن اس حقیقت سے کسی صورت ہماری حمایت متأثر نہیں ہوگی۔"

کیف کو یقین دلانے کے لیے یورپی یونین کے اقدامات میں سے اہم ایک منصوبہ -- جس کا تخمینہ چار سالوں میں 20 بلین یورو ($21 بلین) تھا -- وسیع تر مغربی سکیورٹی وعدوں کے حصے کے طور پر یوکرین کے لیے دفاعی فنڈ کا ہے۔

سفارت کاروں نے کہا ہے کہ بلاک میں روس کے قریبی ترین اتحادی ہنگری کی طرف سے پیش رفت روک دی گئی ہے اور رہنما اس بلاک کی خارجہ پالیسی کے سربراہ کو دسمبر میں اس معاملے پر دوبارہ رپورٹ دینے کے لیے تیار ہیں۔

ماسکو پر نئی پابندیاں عائد کرنے کا مطالبہ بھی کیا جائے گا جس میں روسی ہیروں کی درآمد پر پابندی لگانا شامل ہو سکتا ہے۔ بس ایک دفعہ جی 7 ان کا سراغ لگانے کے طریقے پر متفق ہو جائے۔

علاوہ ازیں منجمد روسی اثاثوں سے حاصل ہونے والی آمدنی کو یوکرین کی مدد کے لیے استعمال کرنے کے منصوبے پر بھی بات کی جائے گی۔

یوکرین کے بارے میں بات چیت کا آغاز اس کی یورپی یونین میں شمولیت کے لیے اگلے اقدامات کے بارے میں ہو گا۔

بلاک کی ایگزیکٹو شاخ 8 نومبر کو اس بارے میں ایک جائزہ پیش کرے گی کہ آیا کیف کے ساتھ باضابطہ الحاق کے مذاکرات شروع کیے جائیں۔

اس کے بعد یہ یورپی یونین کے رہنماؤں پر منحصر ہوگا کہ وہ سال کے آخر تک کوئی سفارشات اپنائیں یا نہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں