گذشتہ دو دنوں کے دوران فلپائن میں سوشل میڈیا اور عوامی حلقوں میں ایک چونکا دینے والے جرم نے ہرطرف غم وغصے کی لہر دوڑا دی۔
ایک براڈ کاسٹر اپنے گھر سے براہ نشریات کرنے کے دوران ایک شخص کی فائرنگ سے ہلاک ہو گیا۔
ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق حملے کا مشاہدہ ان تمام ناظرین نے کیا جو براڈکاسٹر کے فیس بک پیج پر براہ راست پروگرام سن رہے تھے۔
پولیس نے بتایا کہ بندوق بردار مقامی ریڈیو سٹیشن میں داخل ہوا جہاں نیوز اینکر جوان جومالون کام کرتے ہیں۔
تاہم داخل ہونے کے فوراً بعد اتوار کے روز مغربی فلپائن کے صوبہ میسامیس کے قصبے کالمبا میں صبح کی براہ راست نشریات کے دوران انہیں دو بار گولی مار دی گئی۔
حملہ آور موٹرسائیکل پر ایک ساتھی کے ساتھ فرار ہونے سے پہلے مقتول کا سونے کا ہار چھین کر فرار ہوگیا۔
قابل ذکر ہے کہ فلپائن کو طویل عرصے سے دنیا میں صحافیوں کے لیے خطرناک ترین مقامات میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔
فلپائن کی نیشنل یونین آف جرنلسٹس نے کہا کہ جومالون 1986 سے قتل ہونے والے 199ویں صحافی ہیں۔
-
’یہ ہمیں جنگ میں تحفظ نہیں دے سکتے‘ فلسطینی صحافی نے جیکٹ اور ہیلمٹ اتار دیے
غزہ کی پٹی پر اسرائیل کی طرف سے مسلط کی گئی وحشیانہ بمباری میں ساتھی صحافی کے ...
مشرق وسطی -
غزہ میں جرائم اور قتل و غارت گری کے لیے امریکہ اسرائیل کی حوصلہ افزائی کرتا ہے: ایران
صدر رئیسی کی عراقی وزیراعظم کے ساتھ تہران میں مشترکہ پریس کانفرنس میں گفتگو
مشرق وسطی -
اسرائیل قابض ہے دفاع کے حق کا دعوی نہیں کر سکتا: پاکستان
غزہ کے تنازعے میں ’اصل گناہ‘ حماس کے سات اکتوبر کے حملے نہیں تھے بلکہ فلسطینی ...
ایڈیٹر کی پسند