ہم نے بحیرہ احمر میں ایک ڈرون مار گرایا: دو امریکی عہدیداروں کا انکشاف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

دو امریکی عہدیداروں نے انکشاف کیا ہے کہ امریکی بحریہ کے جنگی جہاز نے بحیرہ احمر میں ایک ڈرون کو مار گرایا جو یمن سے لانچ کیا گیا تھا۔ ایسا لگتا ہے کہ یہ دوسری مرتبہ ہے کہ امریکہ نے حماس اور اسرائیل کی لڑائی کے بعد اپنے جنگی جہازوں کے قریب پراجیکٹائل گرائے ہیں۔

دونوں عہدیداروں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ امریکی تباہ کن امریکی جنگجو ارلی برک کلاس کے تھامس ہڈنر نے مقامی وقت کے مطابق بدھ کی صبح ڈرون کو مار گرایا۔ دونوں عہدیداروں نے یہ نہیں بتایا کہ آیا ڈرون مسلح تھا یا نہیں اور مار گرائے جانے سے قبل وہ جہاز کے کتنے قریب آگیا تھا۔

گذشتہ جمعرات کو اسرائیلی فوج نے اعلان کیا تھا کہ اس نے یمن سے اسرائیل کی طرف داغے گئے میزائل کو روک دیا ہے۔ اسرائیلی فوج نے بھی اسی دن تصدیق کی کہ جنوبی اسرائیل کے شہر ایلات میں ایک نامعلوم ڈرون ایک ایلیمنٹری سکول سے ٹکرا گیا جس سے مادی نقصان ہوا۔ حوثیوں نے اسی دن اعلان کیا تھا کہ انہوں نے جنوبی اسرائیل کی طرف متعدد بیلسٹک میزائل داغے ہیں۔

حوثیوں نے گزشتہ ماہ کے آخر میں اعلان کیا تھا کہ انہوں نے غزہ میں ایک ماہ سے زائد عرصے سے جاری جنگ کے جواب میں اسرائیل کی طرف ڈرون فائر کرنا شروع کئے ہیں۔ حوثی ترجمان یحییٰ ساری نے 2 نومبر کو اپنے "ایکس" اکاؤنٹ پر کہا تھا کہ ہم اسرائیل کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بناتے رہیں گے جب تک کہ غزہ پر اسرائیلی حملہ بند نہیں ہو جاتا۔

یاد رہے سات اکتوبر کو شروع ہونے والی لڑائی کو 40 روز مکمل ہوگئے ہیں اور اب تک غزہ کی پٹی میں 11500 فلسطینی شہید ہوگئے ہیں۔ ان شہدا میں 4710 بچے بھی شامل ہیں۔غزہ کی پٹی میں زخمیوں کی تعداد 29,800 تک پہنچ گئی لاپتہ افراد کی تعداد 3,640 تک پہنچ گئی جن میں 1,770 بچے بھی شامل ہیں۔

حماس کے حملے میں 1200 کے لگ بھگ اسرائیلی ہلاک ہوئے۔ 27 اکتوبر سے اسرائیلی فوج نے غزہ کے اندر زمینی کارروائی شروع کردی۔ اس زمینی کارروائی میں اسرائیل کے 50 کے لگ بھگ فوجی ہلاک ہو چکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں