یورپی یونین کے محکمہ امور خارجہ کے سربراہ کا اسرائیل پر تحمل سے کام لینے پر زور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

جمعرات کو غزہ کی پٹی کےاطراف کی اسرائیلی بستیوں کے دورے کے دوران یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ جوزف بوریل نے اسرائیل پر زور دیا کہ وہ 7 اکتوبر کو حماس کی طرف سے کیے گئے "طوفان الاقصیٰ " حملے کے ردعمل میں "اندھا دھند‘‘ انتقام کی پالیسی کے بجائے تحمل سے کام لے۔ انہوں نے کہا کہ ’’ایک دہشت دوسرے خوف کا جواز نہیں بنتی‘‘۔

بوریل نےاسرائیل کے دورے کے دوران کہا کہ انہوں نے اسرائیلی وزیر خارجہ ایلی کوہن کے ساتھ بات کی، جب کہ انہوں نے سات اکتوبر کو حماس کےحملےسے متاثرہ بئیری کمیونٹی کا دورہ کیا۔

بوریل نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ "میں آپ کے غصے کو سمجھتا ہوں، لیکن میں آپ سے کہتا ہوں کہ آپ غصے سے اندھے بہرے نہ ہوں۔ میرا خیال ہے کہ اسرائیل کے بہترین دوست آپ کو یہی بتائیں گے۔"

دورے کے دوران بوریل نے غزہ کی پٹی میں یرغمالیوں کی "فوری اور غیر مشروط" رہائی کا بھی مطالبہ کیا۔

گذشتہ اتوار کو بوریل نے اس بات کی تصدیق کی تھی کی یورپی یونین فوری طور پر جنگ بندی اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر راہداریوں کے قیام کا مطالبہ کرتی ہے، جس میں غزہ کی پٹی میں امداد کے داخلے کے لیے ایک سمندری راستہ بھی شامل ہے۔

بوریل نے ایک بیان میں مزید کہا کہ یورپی یونین کو غزہ میں بگڑتے ہوئے انسانی بحران پر گہری تشویش ہے۔

بوریل نے اس بات پر زور دیا کہ غزہ میں ہونے والی لڑائیوں سے ہسپتالوں کو شدید نقصان پہنچا ہے اور شہریوں اور طبی عملے کو بھاری نقصان پہنچا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ہسپتالوں کو ضروری طبی سامان فوری طور پر فراہم کیا جانا چاہیے اور جن مریضوں کو فوری دیکھ بھال کی ضرورت ہے انہیں بہ حفاظت باہر نکالا جانا چاہیے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں