فلسطین اسرائیل تنازع

خودمختار فلسطینی ریاست کا قیام تنازع کے حل کے لیےبنیادی شرط ہے: پوتین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

فلسطینی عوام کے ساتھ یکجہتی کے عالمی دن کے موقع پر فلسطینی صدر محمود عباس کے نام ایک خط میں روسی صدر ولادیمیر پوتین نے زور دیا کہ 1967 کی سرحدوں پر فلسطینی ریاست کا قیام فلسطینیوں اور اسرائیل کے درمیان جاری تنازع کی بنیادی شرط ہے۔

ایک شرط

روسی صدر ولادی میر پوتین کا یہ مکتوب جسے مشرق وسطیٰ اور افریقی ممالک کے لیے روسی صدر کے خصوصی ایلچی اور نائب وزیر خارجہ میخائل بوگدانوف نے منگل کے روز صدر محمود عباس تک پہنچایا میں انہوں نے کہا کہ یہ خونریز تنازعہ فلسطین میں شہری آبادی کے لیے ناقابل برداشت مصائب کا باعث بن گیا ہے۔

میرا ماننا ہے کہ یہ خاص طور پر اہم ہو گیا ہے کہ ایک خودمختار ریاست کے قیام کے لیے فلسطینی عوام کے جائز حقوق کی بحالی کی حمایت میں روس کے مضبوط موقف کی توثیق کی جائے۔ ہم سنہ 1967ء کی سرحدوں کے اندر اور مشرقی بیت المقدس پر مشتمل ایک آزادی فلسطینی ریاست کی حمایت جاری رکھیں گے۔

روسی صدر نے کہا کہ مسئلہ فلسطین کا منصفانہ حل منصفانہ اور طویل المدتی فلسطینی-اسرائیلی تصفیے کے حصول کے لیے ایک اہم شرط سمجھا جاتا ہے۔

کئی ہفتوں کی جنگ

خیال رہے کہ سات اکتوبر کو اسرائیل پر حماس کے غیر مسبوق حملے کے بعد صہیونی ریاست نے غزہ کی پٹی پر مسلط کی گئی 2007ء کی ناکہ بندی کو مزید سخت کردیا ہے۔

پہلے سے محاصرے کا شکار غزہ کی پٹی پر9 اکتوبر سے کڑا محاصرہ ہے جس کے بعد پانی، خوراک، بجلی، ادویات اور ایندھن کی غزہ کو سپلائی بند کردی گئی ہے۔

جبکہ اقوام متحدہ کے مطابق پرتشدد اسرائیلی بمباری کی وجہ سے پٹی میں آدھے سے زیادہ مکانات تباہ ہوچکے ہیں اور 2.4 ملین میں سے تقریباً 1.7 ملین فلسطینی غزہ کی پٹی کے شمال سے جنوب میں نقل مکانی پر مجبور ہوئے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں