فلسطینی علاقوں میں تحقیقات کو تیز کریں گے: عالمی فوجداری عدالت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اپنی تعیناتی کے بعد پہلی مرتبہ خطے کا دورہ کرنے کے بعد عالمی فوجداری عدالت کے کے پراسیکیوٹر کریم خان نے اتوار کو اعلان کیا کہ ان کا دفتر فلسطینی علاقوں میں اپنی تحقیقات کو آگے بڑھانے کے لیے اپنی کوششیں تیز کرے گا۔ کریم خان نے رام اللہ میں فلسطینی صدر محمود عباس اور دیگر فلسطینی حکام سے ملاقات کی۔ انہوں نے غزہ کی جنگ کے بارے میں کہا کہ گنجان آبادی والے علاقوں میں لڑائی فطری طور پر پیچیدہ ہے۔ یہاں جنگجو غیر قانونی طور پر شہری آبادی کے درمیان موجود ہوتے ہیں لیکن بین الاقوامی انسانی امداد جاری رکھنا چاہیے۔ اسرائیلی فوج اس قانون کو جانتی ہے جس کا اطلاق ہونا چاہیے۔
انھوں نے اپنے دورے کے بعد جاری کیے گئے ایک تحریری بیان میں یہ بھی کہا کہ اسرائیل نے ایسے وکلا کو تربیت دی ہے جو رہنماؤں کو مشورہ دیتے ہیں اور یہ رہنما بین الاقوامی انسانی قانون کی تعمیل کو یقینی بنانے کے لیے ایک مضبوط نظام قائم کرتے ہیں۔
انہوں نے مغربی کنارے میں فلسطینی شہریوں کے خلاف اسرائیلی آباد کاروں کے حملوں کے واقعات میں نمایاں اضافے پر اپنی گہری تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ انتہا پسند نظریہ اور رائفل سے لیس کوئی بھی اسرائیلی اس طرح کے کام کرنے کے قابل ہونے کا احساس نہیں کر سکتا۔ ایس فرد کو اپنے کیے کی سزا سے بچنا نہیں چاہیے۔
کریم خان نے اس طرح کے حملوں کو فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا اور کہا ان کا دفتر پوری توجہ اور استقامت کے ساتھ ان واقعات کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے کہا ہم تنازع میں شریک تمام اداکاروں کے ساتھ کام کرنے کی کوشش کریں گے۔ دوسری جانب کریم خان نے اپنے بیان میں کہا کہ انہوں نے 7 اکتوبر کے حملوں کی جگہوں پر ظلم و بربریت کی تصاویر دیکھی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ 7 اکتوبر کو بے گناہ اسرائیلی شہریوں کے خلاف حملے کچھ ایسے سنگین ترین بین الاقوامی جرائم کی نمائندگی کرتے ہیں جو انسانیت کے ضمیر کو ہلا کر رکھ دیتے ہیں۔ یہ وہ جرائم ہیں جن کو حل کرنے کے لیے بین الاقوامی فوجداری عدالت قائم کی گئی تھی۔ انہوں نے کہا ہمارے پراسیکیوٹرز ان لوگوں کو جوابدہ بنانے کے لیے کام کر رہے ہیں۔
واضح رہے ہفتہ کو فلسطینی انسانی حقوق کے گروپوں نے بین الاقوامی فوجداری عدالت کے پراسیکیوٹر کریم خان سے ملاقات کرنے سے انکار کر دیا اور ان پر فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کے درمیان انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے باہمی الزامات کے حوالے سے غیر مساوی سلوک کرنے کا الزام لگایا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں