پولش رکن پارلیمان کی جانب سے یہودی شمعدان بجھانے کے واقعے پر اسرائیل ناراض

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

پولینڈ کی پارلیمنٹ میں ایک غیر متوقع واقعے نے پورے ملک میں یہودیوں کے حوالے سے تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔

تفصیلات کے مطابق ایک سخت گیر پولش رکن پارلیمان گرزیگورز براؤن ایوان میں آئے یہاں یہودیوں کے ’حانوکا‘ تہوار کی مناسبت سے شمع دان روشن کیا گیا تھا۔

شمع دان کو دیکھ کر براؤن غصے میں آگئے اور اسے بجھانے کے ساتھ اس پر سفید پاؤڈر چھڑک دیا۔

یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب پارلیمنٹ میں نئی حکومت اعتماد کا ووٹ لینے کے لیے موجود تھی۔

واقعے پر سخت رد عمل

گرزیگورز براؤن نے یہ متنازع حرکت کیوں کی؟ اس کے بارے میں انہوں نے کچھ نہیں بتایا تاہم اس پر اسرائیلی سفیر نے سخت ناراضی کا اظہار کیا ہے۔

جب براؤن شمع دان کو بجھانے کے لیے آگے بڑھے تو ایک خاتون رکن پارلیمنٹ انہیں روکنے کے لیے آگے آئی توانہوں نے اس پر بھی سفید پاؤڈر کے پھینک دیا جس نے اس کے چہرے کو ڈھانپ دیا۔

ٹیلی ویژن پر براہ راست نشر ہونے والی کارروائی انتہائی دائیں بازو کے رکن پارلیمنٹ کے رویے نے روک دی۔ تاہم چند لمحات کے بعد اسے دوبارہ شروع کردیا گیا۔

دریں اثنا ڈونلڈ ٹسک جن کی نئی حکومت نے کل منگل کو اعتماد کا ووٹ حاصل کیا نےاس رویے کو ناقابل قبول قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ پولینڈ میں ایسا دوبارہ نہیں ہو سکتا۔

پولینڈ میں اسرائیلی سفیر یعکوو لیونی نے اس رویے کو ذلت آمیز اور شرمناک قرار دیا۔ انہوں نے X پلیٹ فارم پر اپنے اکاؤنٹ پر ایک ٹویٹ میں ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ "کتنی شرم کی بات ہے۔ پولش پارلیمنٹ کے ایک رکن نے ایسا کیوں کیا؟"۔

گرزیگورز براؤن کو اس پر کوئی پچھتاوا نہیں دکھایا۔ اس واقعے کے بعد براہ راست کچھ صحافیوں کی جانب سے ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ اس پر شرمندہ ہیں تو انہوں نے کہا کہ"جو لوگ ایسی شیطانی حرکتوں میں حصہ لیتے ہیں انہیں شرم آنی چاہیے"۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں