بحیرہ احمر میں کشیدگی کے بعدواشنگٹن کا حوثیوں کودوبارہ دہشت گرد تنظیم قراردینے پر غور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

امریکی قومی سلامتی کونسل کے ترجمان جان کربی نے بدھ کے روز کہا ہے کہ امریکا اپنے شراکت داروں اور اتحادیوں کے ساتھ تجارتی بحری جہازوں کی حفاظت اور بحیرہ احمر میں حوثیوں کے حملوں کا مقابلہ کرنے کے لیے کام کر رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ واشنگٹن حوثیوں کو دوبارہ ایک دہشت گرد تنظیم قرار دینے پر غور کررہا ہے۔

جان کربی
جان کربی

کربی نے صحافیوں کو بتایا کہ "حوثیوں کے حملے بند ہونے چاہیئں اور یہ ناقابل قبول ہیں۔ امریکا اپنے شراکت داروں اور اتحادیوں کے ساتھ مل کر ان حملوں کا مقابلہ کرنے اور بحری جہازوں کی حفاظت کے لیے کام کر رہا ہے۔

بہت سے ممالک اس معاملے میں امریکا کے ساتھ تعاون کے لیے تیار ہیں اور کام جاری ہے۔ ہم دوبارہ حوثیوں کو دہشت گرد قرار دینے پر غور کررہے ہیں لیکن ابھی تک اس حوالے سےحتمی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔

امریکی قومی سلامتی کونسل کے ترجمان نے زور دے کر کہا کہ حوثی باغی تجارتی بحری جہازوں کو نشانہ بنانے پر زیادہ توجہ دے رہے ہیں۔ ہم نے ابھی تک فوجی بحری جہازوں پر کوئی حملہ نہیں دیکھا ہے۔ ہماری افواج میزائلوں کی نقل و حرکت اور ڈرون کو دیکھتے ہیں تو وہ مناسب اقدام اٹھاتے ہیں۔

امریکا، یورپی یونین، نیٹو اور یمن سمیت کئی ممالک نے ایک مشترکہ بیان جاری کیا ہے جس میں بحیرہ احمر میں حوثیوں کی طرف سے بحری جہازوں پر حملوں کی سخت الفاظ میں مذمت کی گئی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں