سلامتی کونسل میں غزہ سے متعلق قرارداد پر ووٹنگ چوتھی بار مؤخر

تازہ ترین مسودے میں غزہ میں ’فوری طور پر محفوظ اور بلا روک ٹوک انسانی ہمدردی کی رسائی کی اجازت دینے اور کشیدگی کے پائیدار خاتمے کے لیے ساز گار حالات پیدا کرنے کے لیے فوری اقدامات‘کا مطالبہ کیا گیا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایک بار پھر غزہ کو امداد دینے سے متعلق قرارداد پر ووٹنگ نہ ہوسکی، امریکی اعتراضات کے باعث سلامتی کونسل میں غزہ جنگ بندی کی قرار داد پر ووٹنگ مسلسل چوتھے روز مؤخر کردی گئی، اب قرار داد پر ووٹنگ آج رات ہونے کا امکان ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق کئی دنوں کی تاخیر کے بعد تازہ ترین مسودے میں غزہ میں ’فوری طور پر محفوظ اور بلا روک ٹوک انسانی ہمدردی کی رسائی کی اجازت دینے اور کشیدگی کے پائیدار خاتمے کے لیے ساز گار حالات پیدا کرنے کے لیے فوری اقدامات‘ کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

سفارتی ذرائع کے مطابق امریکا کو قرار داد کے مسودے میں شامل سیز فائرکا لفظ اور دشمنی کے خاتمے جیسے الفاظ پر اعتراض ہے تاہم اس حوالے سے ارکان کے مذاکرات جاری ہے۔

امریکی سفیر لنڈا تھامس گرین فیلڈ نے جمعرات کی شب صحافیوں کو بتایا: ’اگر (نئے مسودے کے ساتھ) یہ قرارداد پیش کی جاتی ہے تو ہم اس کی حمایت کر سکتے ہیں۔‘

تاہم انہوں نے اس بات کی تردید کی کہ قرارداد کے اصل مسودے پر پانی پھیر دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ (نیا مسودہ) ’بہت مضبوط‘ ہے اور اسے ’عرب گروپ کی طرف سے مکمل حمایت حاصل ہے۔‘

مین ہیٹن میں اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹرز میں متحدہ عرب امارات کی طرف سے تیار کردہ اس قراردار پر ووٹنگ اس سے قبل تین بار مؤخر ہو چکی ہے۔انٹرنیشنل کرائسس گروپ کے تجزیہ کار رچرڈ گوون نے کہا: ’اس (نئے مسودے) میں استعمال ہونے والی زبان کے الفاظ بے معنی ہیں۔‘

ان کے بقول: ’کونسل کے دیگر ارکان کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ آیا وہ صرف اتفاق رائے پر پہنچنے کی خاطر کمزور متن پر سمجھوتہ کر لیں گے۔‘

انہوں نے خاص طور پر کہا کہ ویٹو کی طاقت رکھنے والے روس کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ ’کیا وہ کسی ایسے مسودے کی حمایت کر سکتے ہیں جو بالآخر ان کی دیرینہ دلیل یعنی فائر بندی کے مطالبے کے خلاف ہو۔‘

اے ایف پی کے مطابق متحدہ عرب امارات کی سربراہی میں پیش کی جانے والی قرارداد میں اتفاق رائے پیدا کرنے کے لیے کئی اہم شعبوں میں ترامیم کی گئی ہے۔

نیا مسودہ تمام فریقوں سے مطالبہ کرتا ہے کہ ’انسانی امداد کی فراہمی کے لیے پوری غزہ کی پٹی کے لیے اور اس میں سرحدی کراسنگ سمیت تمام راستوں کے استعمال کی اجازت اور سہولت فراہم کی جائے۔‘

تھامس گرین فیلڈ نے مزید کہا: ’ہر ایک دن ہم زمین پر انسانی امداد کو بڑھانے کے لیے کام کر رہے ہیں۔‘

15 رکنی کونسل کے ارکان کئی دنوں سے قرارداد پر مشترکہ بنیاد تلاش کرنے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں کیونکہ جنگ کے آغاز سے ہی کونسل کی جانب سے کارروائی نہ کرنے پر تنقید بڑھ رہی ہے۔

یاد رہے کہ سلامتی کونسل میں قرارداد کا مسودہ پیش کرنے والے ملک متحدہ عرب امارات نے پیر (18 دسمبر) کو ہونے والی ووٹنگ کو ایک دن کے لیے ملتوی کرنے کی درخواست کی تھی جس پر ووٹنگ منگل (19 دسمبر) تک ملتوی کر دی گئی تھی۔

تاہم منگل کے روز بھی قرارداد پر ووٹنگ نہ ہو سکی جبکہ یو اے ای کی جنگ بندی سے متعلق پہلی قرار داد کو بھی امریکا نے سلامتی کونسل میں ویٹو کر دیا تھا۔

متحدہ عرب امارات کی سفیر لانا نسیبہ کا کہنا ہے کہ قرارداد کے مسودے پر اتفاق رائے کے لیے اعلیٰ سطح کے مذاکرات جاری ہیں۔

اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق غزہ میں پانچ لاکھ 76 ہزار سے زیادہ فلسطینی (آبادی کا ایک چوتھائی حصہ) بھوک اور فاقہ کشی کا سامنا کر رہے ہیں۔

دوسری جانب غزہ میں اسرائیلی دہشت گردی میں کمی نہ آسکی، اسرائیلی فوج نے رفح، خان اور نصیرات پناہ گزین کیمپ پر ایک بار پھر راکٹ داغ دیے۔

24 گھنٹوں میں 230 مقامات کو نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں 100 سے زائد فلسطینی شہید ہو گئے، سات اکتوبر سے شہید فلسطینیوں کی مجموعی تعداد 20 ہزار سے زائد ہو گئی۔

صہیونی فوج نے ہلال احمر کی عمارت کا گھیراؤ کرلیا جبکہ اسرائیلی فوج نے خان یونس کے بعد غزہ کے علاقے شجاعیہ پر بھی قبضے کا دعویٰ کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں