فلسطین اسرائیل تنازع

ٹونی بلیئر کی غزہ سے فلسطینیوں کی نقل مکانی کا مشن سنھبالنے کے دعوے کی تردید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سابق برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر نے اس بات کی سختی سے تردید کی ہے کہ وہ غزہ سے فلسطینی شہریوں کے رضا کارانہ انخلاء کے مشن کی قیادت سنھبال رہے ہیں۔

انہون نے اسرائیلی ٹیلی ویژن چینل کی طرف سے گذشتہ ہفتے اسرائیل میں غزہ کی پٹی سے فلسطینیوں کی نقل مکانی کے حوالے سے ہونے والی بات چیت کے بارے میں رپورٹ کو مسترد کردیا۔

ان رپورٹس کے بعد فلسطینی اتھارٹی نے ٹونی بلیئر کو’ناپسندیدہ شخصیت‘ قرار دیا تھا۔

اسرائیلی چینل 12 نے اتوار کو رپورٹ کیا کہ بلیئر جنہوں نے 2007ء میں وزارت عظمیٰ کا عہدہ چھوڑ دیا اور پھر فلسطینی اداروں کی تعمیر نو کی نگرانی کے لیے مشرق وسطیٰ کے لیے خصوصی ایلچی کی حیثیت سے خدمات انجام دیں گذشتہ ہفتے اسرائیل کے دورے پر آئے تھے۔

انہوں نے بتایا گیا ہے کہ انہوں نے اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو اور جنگی کیبنٹ کے رکن بینی گینٹز کے ساتھ غزہ جنگ کے بعد کے مرحلے میں ثالثی کے کردار کے حوالے سے ملاقاتیں کیں۔ چینل کے مطابق وہ غزہ کے رہائشیوں کی "رضاکارانہ آباد کاری" کے حوالے سے عرب ممالک کے ساتھ ثالث کا کردار بھی ادا کر سکتے ہیں۔

تاہم ٹونی بلیئر انسٹی ٹیوٹ فار گلوبل چینج میں ایک فورم سے خطاب میں کہا کہ اسرائیلی میڈیا کی رپورٹس "جھوٹ کا پلندہ" ہے۔ انسٹیٹیوٹ کی رپورٹ کے مطابق ٹونی بلیئر یا ان کی ٹیم کے ساتھ ایسی کوئی بات چیت نہیں ہوئی جس میں غزہ سے فلسطینیوں کی رضا کارانہ نقل مکانی پر بات کی گئی ہو۔

تنازعات کے دوران شہریوں کو ان کی سرزمین سے بے دخل کرنا، یا ناقابل رہائش حالات پیدا کرنا جو انہیں وہاں سے نکلنے پر مجبور کرتے ہیں ایک جنگی جرم ہے۔

فلسطینی ایوان صدر نے اس رپورٹ پر تنقید کرتے ہوئے بلیئر یا کسی اور کو غزہ کی پٹی سے شہریوں کو بے گھر کرنے کے لیے کام کرنے کی ذمہ داری سنھبالنے کو مسترد کردیا تھا۔

انہوں نے فلسطینی خبر رساں ایجنسی وفا کی طرف سے شائع ہونے والے ایک بیان میں کہا کہ وہ برطانوی حکومت سے مطالبہ کریں گی کہ "فلسطینی عوام کی تقدیر اور مستقبل کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی اجازت نہ دی جائے"۔ فلسطینی ایوان صدر نے ٹونی بلیئر کو "فلسطینی علاقوں میں ناپسندیدہ شخصیت" قرار دیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں