اگر رشی سونک کو وسطی کیئف میں نشانہ بنایا جائے تو کیا ہو گا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

صدر ولادیمیر پوتین کے ایک اہم اتحادی نے جمعے کو خبردار کیا کہ ماسکو، برطانیہ کی طرف سے یوکرین میں فوجی دستے کی تعیناتی کے کسی بھی اقدام کو روس کے خلاف اعلان جنگ سمجھے گا۔

سابق روسی صدر دیمتری میدویدیف نے، جو اب روسی سلامتی کونسل کے وائس چیئرمین ہیں، یہ بیان برطانوی وزیر اعظم رشی سونک کے یوکرین کو نئے فوجی ڈرون کی خریداری میں مدد کے لیے فوجی فنڈنگ میں اضافے کے اعلان کے لیے کیئف کے دورے کے جواب میں دیا۔

میدویدیف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹیلی گرام پر لکھا کہ "مجھے امید ہے کہ ہمارے ازلی دشمن، مغرور برطانوی سمجھتے ہیں کہ یوکرین میں سرکاری فوجی دستے کی تعیناتی ہمارے ملک کے خلاف اعلان جنگ کے مترادف ہو گی"۔

سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ میدویدیف کے بار بار سخت الفاظ میں عوامی بیانات کریملن کی اعلیٰ ترین سطح پر سخت سوچ کی نشاندہی کرتے ہیں۔

اپنے بیانات میں میدویدیف نے حیرت کا اظہار کیا کہ اگر سونک کے وفد کو وسطی کیف میں کلسٹر بم حملوں کا سامنا کرنا پڑا تو مغربی رائے عامہ کیسا محسوس کرے گی؟ جو کچھ اس کے بہ قول حال ہی میں بیلگوروڈ شہر میں روسی شہریوں کے ساتھ ہوا تھا۔

بیلگوروڈ جنوبی روس میں یوکرین کی سرحد کے قریب واقع ہے اور اسے گذشتہ چند مہینوں میں یوکرین کی جانب سے متعدد بار میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا جا چکا ہے۔

30 دسمبر کو پیش آنے والے واقعے میں میدویدیف کا حوالہ دیتے ہوئے روس نے کہا کہ اس میں کم از کم 20 افراد ہلاک ہوئے، جن میں دو بچے بھی شامل ہیں۔اس کے علاوہ 111 زخمی ہوئے تھے۔ انہوں نے اس حملے کو یوکرین کی طرف سے خوفناک کلسٹر بم حملہ قرار دیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں