متحدہ عرب امارات کی ثالثی اور مذاکرات کے ذریعے جسے ماسکو نے "مشکل" قرار دیا ہے روس اور یوکرین کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کا معاہدہ ہوا جس میں 448 فوجیوں کا تبادلہ کیا گیا ہے۔
روس کی وزارت دفاع نے بدھ کے روز ایک بیان میں 248 روسی فوجیوں کی رہائی کا اعلان کیا۔ روسی وزارت دفاع نے بدھ کے روز اعلان کیا کہ یوکرین کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے میں کئی مہینوں میں پہلی بار 248 روسی فوجیوں کی بازیابی ہوئی۔ کیف نے ماسکو پر اس سلسلے میں مذاکرات میں رکاوٹ ڈالنے کا الزام لگایا تھا۔
روسی فوج کے بیان میں کہا گیا ہے کہ "اس سال تین جنوری بروز بدھ کو ایک مشکل مذاکراتی عمل کے نتیجے میں 248 روسی فوجیوں کو کیئف حکومت کے زیر کنٹرول علاقوں سے واپس بھیج دیا گیا"۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ روسی فوجیوں کی قید سے واپسی "متحدہ عرب امارات کی انسانی ثالثی کی بہ دولت ممکن ہوئی ہے"۔
بیان میں واضح کیا گیا کہ رہائی پانے والے تمام روسی فوجیوں کو ضروری طبی اور نفسیاتی امداد حاصل ہے اور روسی فضائیہ کے ملٹری ٹرانسپورٹ طیارے فوجی اہلکاروں کو وزارت دفاع سے منسلک طبی اداروں میں علاج اور بحالی کے لیے پہنچائیں گے۔
دوسری جانب یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے علاحدہ طور پر روس سے 200 سے زائد یوکرینی قیدیوں کی واپسی کی تصدیق کی۔
یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ 22 ماہ کی جنگ کے دوران دونوں فریقوں نے متعدد قیدیوں کا تبادلہ کیا ہو۔