مشرق وسطیٰ

ترکیہ نے اسرائیل کے خلاف نسل کشی کے مقدمے ثبوت عالمی عدالت کے سامنے پیش کر دیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ترکیہ کے صدر رجب طیب ایردوآن نے جمعہ کے روز کہا ہے کہ ترکیہ نے فلسطینی شہریوں کے خلاف نسل کشی کے ارتکاب کے الزام میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی عدالت انصاف میں اسرائیل کے خلاف جنوبی افریقہ کی طرف سے دائر مقدمے کے لیے دستاویزات جمع کرائی ہیں۔

استنبول میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ایردوآن نے کہا کہ ترکیہ غزہ پر اسرائیلی حملوں کے بارے میں دستاویزات زیادہ تر تصاویر فراہم کرتا رہے گا۔

انہوں نے کہا کہ"مجھے یقین ہے کہ وہاں اسرائیل کو سزا سنائی جائے گی۔ ہم بین الاقوامی عدالت انصاف کے انصاف پر یقین رکھتے ہیں"۔

اسرائیلی وزیر خارجہ اسرائیل کاٹز نے ترک صدر کو "ایک ایسے ملک کا سربراہ قرار دیا جس نے ماضی میں آرمینیائی باشندوں کی نسل کشی کی اور اس نے اسرائیل پر "بے بنیاد الزامات" عائد کیے ہیں۔

اسرائیل ان 30 سے زیادہ ممالک میں شامل نہیں ہے جنہوں نے 1915 میں عثمانی ترکوں کے ہاتھوں آرمینیائی باشندوں کے بڑے پیمانے پر قتل کو نسل کشی قرار دیا تھا۔

ترکیہ جو 1923 میں سلطنت عثمانیہ کے خاتمے کے بعد ایک جمہوریہ بنا نے ہمیشہ آرمینیائی باشندوں کو ختم کرنے کے لیے منظم مہم چلانے سے انکار کیا ہے۔

جمعہ کے روز اسرائیل نے بین الاقوامی عدالت انصاف کے ججوں سے کہا کہ وہ جنوبی افریقہ کی طرف سے اس کے خلاف لائے گئے نسل کشی کے مقدمے کو ختم کر دیں۔

دوسری طرف جنوبی افریقہ نے اقوام متحدہ کی عدالت سے کہا ہے کہ وہ غزہ کی پٹی میں اسرائیلی فوجی مہم کو فوری طور پر روکنے کا حکم جاری کرے۔

جمعرات کو عدالت کے سامنے جنوبی افریقہ کی طرف سے لگائے گئے الزامات کے جواب میں اسرائیل نے کہا تھا کہ غزہ میں حماس کے خلاف اس کے حملے کو روکنے کے مطالبات کی کوئی ٹھوس بنیاد نہیں ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں